خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 632
خطبات طاہر جلدے 632 خطبه جمعه ۶ ار ستمبر ۱۹۸۸ء جماعت احمدیہ کے پاس حقیقی روحانیت کا ہتھیار ہے۔ایسی روحانیت جو خدا سے ملاتی ہے۔جو روز مرہ زندگی میں خدا سے تعلقات قائم کروا دیتی ہے اور کسی ایک شخص کا انسان کو محتاج نہیں رہنے دیتی کہ فلاں شخص کی معرفت میں خدا سے ملوں بلکہ ایک Scientific Phenomenon کے طور پر ایک ایسے طبعی قانون کے طور پر جس پر جو عمل کرے اس کا نتیجہ دیکھ سکتا ہے۔احمدیت خدا تعالیٰ سے ایک لقائے عام کی دعوت دیتی ہے سب دنیا کو۔جو چاہے آزما کے دیکھے۔خدا اس کا ہو جائے گا، اس سے پیار کرے گا، اس کی دعاؤں کو قبول کرے گا اس کے لئے عجائب کام دکھائے گا اس کے دل کو تسکین بخشے گا۔یہ ہے احمدیت کا پیغام جو اور دنیا میں کسی قوم کے پاس نہیں۔یہ ہوتے ہوئے اس کو چھوڑ کر اس کے بغیر ، سب سے قومی ہتھیار کو لئے بغیر آپ میدان میں نکل جائیں تو اس کو حد سے بڑھی ہوئی سادگی کے سوا اور انسان کیا کہہ سکتا ہے۔پس حقیقی بات یہ ہے اور اس پر میں اس خطاب کو ختم کروں گا کہ آپ کو تبلیغ میں سب سے زیادہ کام آنے والی چیز روحانیت ہے اور روحانیت سے مراد وہ کچی روحانیت ہے جو تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے۔دکھانے کی روحانیت نہیں جو لوگوں کو اپنی مصنوعی نیکی کی طرف بلوانے کے لئے اختیار کی جاتی ہے بلکہ ایسی روحانیت جو آپ دوسروں کو عطا کر سکتے ہیں، جوٹھوس حقیقت کے طور پر ہیں۔جوخدا کی سچی محبت سے پیدا ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں انسان کے اندر ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔اس کی کیفیت بدل جاتی ہے، اس کے اخلاق بدل جاتے ہیں ، وہ دکھائی دینے لگتا ہے دنیا کو کہ ہاں اس کا تعلق کسی طاقتور ہستی سے ہو چکا ہے۔اس کے اندر خدائی کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔یہ وہ روحانیت ہے جو دنیا کی ہر مقابل طاقت پر غالب آنے کی طاقت رکھتی ہے اور اگر کسی داعی الی اللہ میں اس قسم کی روحانیت ہو یعنی سادہ لفظوں میں اللہ تعالیٰ سے سچی محبت پیدا ہو جائے اس سے پیار پیدا ہو جائے اور خدا کے قرب کے آثار وہ دیکھنے لگے ، اس کو اپنی ذات میں محسوس ہونے لگے کہ ہاں اب میں خدا کا ہو چکا ہوں تو ایسے شخص کی آواز میں ایک غیر معمولی طاقت پیدا ہو جاتی ہے وہ دلوں کو مغلوب کر دیتی ہے ایسا گہرا اثر پیدا کرتی ہے کہ فطرت کے اندر ڈوب جاتی ہے۔یہ جو آوازہ ہے جس کی آج دنیا انتظار کر رہی ہے اور اس آواز کے بغیر آپ کامیابی سے دعوت الی اللہ نہیں کر سکتے۔آپ کا ماحول یہاں دن بدن گندا ہوتا چلا جا رہا ہے اور سب سے بڑی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ