خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 623
خطبات طاہر جلدے 623 خطبہ جمعہ ۹ ر ستمبر ۱۹۸۸ء لیے وہ اس قابل ہیں کہ اگر چاہیں تو چھوٹی چھوٹی آسان تبلیغی کیسٹ تیار کرنا شروع کریں جو عام فہم ہوں اور لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل نہ ہو اور بظاہر زیادہ دلائل دینے سے ایک دوسادہ دلیلیں اختیار کر لیں اور خوب تفصیل سے ان پر روشنی ڈالیں۔ایسی کیسٹس کو اگر سارے ملک میں عام کر دیا جائے تو اُس سے خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔تیسری نصیحت یہ ہے کہ بدرسموں سے بچنے کے خلاف مہم چلائیں۔جب جماعت یا کوئی بھی مذہبی الہی جماعت ترقی کرتی ہے تو بعض خطرات بھی در پیش ہوتے ہیں۔بعض دفعہ پرانی بدر میں اسی طرح ساتھ چھپٹتی رہتی ہیں اور جماعت میں اس طرح داخل ہو جاتی ہیں جیسے کسی صحت مند سوسائٹی میں کوئی بیماریاں پھیلانے والا مریض داخل ہو جائے۔اس طرح باہر کی بد رسمیں الہی جماعت کے اندر داخل ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔دوسرے بعض دفعہ پہلے سے ہی بعض جماعتوں میں بعض آبائی طور پر رسمیں چلی آتی ہیں جو دین کے لیے مہلک ہوتی ہیں۔مجھے کل کی سوال و جواب کی مجلس سے اندازہ ہوا ہے کہ اس طرف جماعت میں خصوصی توجہ نہیں کی۔اس لیے میں انتظامیہ کو بھی متوجہ کرتا ہوں کہ وہ پورا جائزہ لیں ملک میں کہ کون کون سی ایسی خلاف اسلام رسمیں یہاں رائج ہیں جن کے خلاف جہاد ہونا چاہئے اور جماعت میں جو انتظام ہے اُس کے اوپر بھی نظر ثانی کریں۔اسی طرح میں آپ سب سے تمام احمدی احباب مرد وزن سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ خود بھی اپنے آپ کو بُری رسموں سے آزاد کرنے کی کوشش کریں اور بدی کے خلاف بالعموم لوگوں کو نصیحت کریں سختی سے نہیں لیکن محبت اور پیار اور ہمدردی سے اور اس بات کو اپنا شعار بنا لیں کہ نیک باتوں کی نصیحت کیا کریں گے اور بُری باتوں سے روکا کریں گے۔کہا جاتا ہے کہ مختلف ملکوں کی مٹی میں بھی مختلف تاثیر ہوتی ہے۔جو انسان کے اخلاق پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔بعض ملکوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اُس کی مٹی میں وفا پائی جاتی ہے۔مراد یہ ہے کہ وہاں بسنے والے لوگ وہاں کی اقوام عموماً وفادار ہوتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ بعض ملکوں کی مٹی میں بے وفائی یا غداری پائی جاتی ہے۔قطع نظر اس کے کہ مٹی کا اثر ہے یا کچھ اور یہ ہم ضرور جانتے ہیں کہ روایتاً بعض ملکوں میں بے وفائی اور غداری زیادہ پائی جاتی ہے۔آپ کی مٹی کے متعلق یہ میر احسن ظن ہے کہ آپ کی مٹی میں وفا کا مادہ پایا جاتا ہے کیونکہ میں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ افریقہ کے مختلف ممالک سے بہت سے ایسے خاندان یا لوگ ہیں جو یہاں لمبا عرصہ زندگیاں گزار کے باہر گئے لیکن کسی نے مڑ کے