خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 624
خطبات طاہر جلدے 624 خطبه جمعه ۹ر ستمبر ۱۹۸۸ء اپنے ملک کی طرف نہیں دیکھا اور یہ کوشش نہیں کی کہ اپنے ملک جس سے انہوں نے بہت حد تک استفادے کئے۔ایک لمبے عرصے اُن کے خاندان یہاں بستے رہے اور ان ملکوں سے فائدے اُٹھائے۔ان میں سے کسی خاندان نے مڑ کے یہ نہیں دیکھا کہ ہم اُس ملک کے ساتھ وفا کرتے ہوئے اُس کے احسان کا بدلہ اُتاریں اور اُس کی بہبود کے لیے کچھ خرچ کریں سوائے تنزانیہ کے۔تتنزانیہ میں جو خاندان یہاں آباد ہوئے وہ ایشائی لوگ جو کسی زمانے میں یہاں رہا کرتے تھے پھر یہاں چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے ، کوئی پاکستان آباد ہو گئے ،کوئی انگلستان آباد ہو گئے۔یہاں ایک سے زائد مرتبہ مجھے ذاتی طور پر مشاہدہ ہوا کہ ان خاندانوں کے افراد نے بڑے اصرار کے ساتھ میرے سامنے ،میرے پاس رقوم پیش کیں کہ ہمیں اپنے وطن یعنی سابق وطن تنزانیہ سے ایسی محبت ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ اُس کی بہبود کے لیے ہم کچھ خرچ کریں۔ایک دفعہ ہوا ، دو دفعہ ہوا، تین دفعہ ہوا، بار، بار میرے سامنے یہ بات آئی اور وہ مختلف لوگ تھے، مختلف جگہوں کے رہنے والے تھے۔اس سے میں نے انداز لگایا کہ آپ کی وطن کی مٹی میں وفا کا مادہ پایا جاتا ہے۔پس اس وفا کے مادے کو احمدیت اور اسلام کے لیے بھی استعمال کریں۔سب سے زیادہ وفا اپنے خدا سے ہونی چاہئے۔جب آپ بندوں کے وفادار ہیں تو میں اُمید رکھتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ آپ اپنے رب سے بھی وفا کریں گے اور اس کے دین کو پھیلانے کے لیے ہر ممکن سعی کریں گے اللہ آپ کے ساتھ ہے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے بعد انگریزی میں فرمایا: Inshaallah we'll say the Asr prayer immidiately after Juma۔I am on journey I'll say two Rakaat, Those who are not on journey they will complete their four Rakaat before saying Aslamualykum with me۔یعنی انشاء اللہ ہم جمعہ کے فوراًبعد عصر کی نماز بھی ادا کریں گے۔میں سفر پر ہوں اس لئے دو رکعت ادا کرونگا جو سفر پر نہیں ہیں وہ السلام علیکم سے پہلے چار رکعات پوری کر لیں۔