خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 622 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 622

خطبات طاہر جلدے 622 خطبه جمعه ۹ ستمبر ۱۹۸۸ء ہیں ، نماز با جماعت پڑھنے کے سلسلے میں مسائل کیا ہیں۔ یہ ساری وہ باتیں ہیں جو مل کر جماعت کو قائم کرتی ہیں ۔ اس لیے جب میں کہتا ہوں نماز کو قائم کریں تو میرے ذہن میں یہ سارا پروگرام ہے تفصیلی ۔ اس پہلو سے جہاں معلم میسر ہیں وہاں معلمین کو اولیت اس کام کو دینی چاہئے ۔ جہاں معلم میسر نہیں ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا وہاں صاحب علم نیک لوگ اپنی طرف سے فوراً درس جاری کر دیں اور خواتین کو نظر انداز نہ کریں ۔ یہ سب سے اہم بات ہے۔ جیسا کہ میں کہہ رہا تھا اگر آپ کی عورتیں ، آپ کی بچیاں نماز کو قائم کرنے والی بن جائیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے آئندہ سینکڑوں سال تک آپ کی نسلیں محفوظ ہو جائیں گی کیونکہ گھروں میں عورتیں ہی ہیں بچپن سے قوم کے دل میں کسی بات کی عظمت پیدا کیا کرتی ہیں ۔ دوسری نصیحت یہ ہے کہ تبلیغ کے کام کو بہت زیادہ آگے بڑھائیں اور ہر احمدی مرد ہو یا عورت بڑا ہو یا چھوٹا کوشش کرے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اُسے سال میں کم سے کم ایک اور احمدی بنانے کی توفیق ملے ۔ اس سلسلے میں جن لوگوں کو علم نہیں ہے وہ گھبراتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم دوسرے سے بات کریں گے تو اُسے کیا بتاسکیں گے۔ لیکن تبلیغ کے لیے اول تو بہت علم کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہوں اور دعا کرتے ہوئے اُس کی خاطر لوگوں کو نیکی کی طرف بلانا شروع کریں تو آپ کی بات میں ایک خاص برکت پڑتی ہے۔ آپ کی بات میں وزن پیدا ہو جاتا ہے اور قوت عطا ہوتی ہے اسکو۔ اس لیے وہ دعوت اللہ کرنے والا ، وہ خدا کی طرف بلانے والا جو خدا کی محبت سے آراستہ ہو ، اُس کے دل میں خدا کی محبت سجھی ہوئی ہو اور وہ دعا کرتا ہو اُس کی راہ میں کبھی بھی علمی کمزوری حائل نہیں ہوا کرتی ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کریں اور نیکی اختیار کرتے ہوئے خدا کی خاطر صاف لفظوں میں ہمدردی سے لوگوں کو احمدیت کی طرف بلانا شروع کریں۔ جہاں تک علم کی کی کا تعلق ہے اُس کمی کو آج کے زمانے میں کسی حد تک کیسٹس کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے۔ کچھ تبلیغی مضمون پر مشتمل کیسٹس کینیا میں بنی ہوئی ہیں جو اچھی علمی حیثیت رکھتی ہیں اور کچھ آپ اپنے حالات میں یہاں خود تیار کر سکتے ہیں ۔ آپ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مرکز سلسلہ میں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ مربیان کی ایک بڑی تعداد کام کر رہی ہے۔ جن میں بہت سے ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کے فضل سے خود تنزانیہ ملک کے باشندے ہیں ۔ اردو بھی جانتے ہیں اور سواحیلی تو اُن کی اپنی زبان ہی ہے ، عربی سے بھی واقفیت رکھتے ہیں ۔ اس