خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 615 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 615

خطبات طاہر جلدے 615 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء ہیں کیوں اس بات کو نہیں پہچانتے۔مٹی کی کیا حیثیت ہے، ہمٹی میں کون سی فراخی پائی جاتی ہے۔یہ سب صفات الہی ہیں جو اس کی تخلیق میں اپنے جلوے دکھاتی ہیں تو کیسے ممکن ہے وہ خدا جس نے زمین میں یہ صفات پیدا کر دیں کہ وہ آپ کے بکھیرے ہوئے دانوں کو واپس کر دیتی ہے، بڑھا کر واپس کرتی ہے وہ خدا جب اس کے دین کے لئے لوگ اپنے دانے اس کے حضور پیش کریں تو وہ ان کو دبا کر بیٹھ جائے اور اصل بھی واپس نہ کرے۔اللہ تعالیٰ بہت برکتیں ڈالنے والا ہے، سب رزق اسی کے پاس ہے۔اس لئے خدا کی خاطر مالی قربانی میں کمی نہ کریں۔مجھے یقین ہے کہ وہ نوجوان جن کے متعلق کہا گیا کہ ویسے تو بڑے اچھے ہیں مخلص ہیں عقل والے بھی ہیں لیکن ذرا یہ کمزوری ہے۔ان سے صحیح معاملہ کیا جائے ، ان سے گفتگو کی جائے وہ خطبات جو میں نے اس موضوع پر دیئے ہیں وہ ان کو سنائے جائیں۔آپ دیکھیں گے کتنی جلدی ان کے اندر انشاء اللہ پا کیز ہ تبدیلی پیدا ہوگی۔جوغریب ہیں ان کو اپنی طاقت کے مطابق دینا چاہئے۔اگر کسی کو خدا نے تھوڑا دیا ہے وہ تھوڑا دے کسی کو زیادہ دیا ہے وہ زیادہ دے لیکن وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کے مضمون کو سمجھ کر خدا سے معاملہ کرے۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ بعض غریب غربت کی وجہ سے چندہ دینے سے محروم رہ جاتے ہیں ان کو میں کہتا ہوں آپ کو جتنی توفیق ہے وہی دے دیں۔اگر آپ ۱۶/ انہیں دے سکتے تو مجھے لکھ دیں ایک پیسہ دے سکتے ہیں تو پیسہ دیں۔آپ کے پیسے سے اس جماعت کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا بظاہر جس کو خدا اربوں دے رہا ہے لیکن آپ کی ذات کو فرق پڑے گا۔اس لئے وہ جو کہتے ہیں کہ ہم غریب ہیں ہمیں کلیہ معاف کر دیا جائے چندہ ان سے میں کہتا ہوں نہیں۔میں آپ پر ظلم کروں گا اگر آپ کو کلیۃ معاف کر دوں۔آپ مجھے بتائیں کہ آپ ایک پیسہ ایک آنہ ایک Peni بھی نہیں دے سکتے ؟ اگر وہ دے سکتے ہیں تو وعدہ کر لیں کہ میں ضرور دوں گا پھر انشاء اللہ خدا تعالیٰ آپ کے مال میں برکت دے گا۔پھر ایسا بھی وقت آئے گا کہ آپ زیادہ دینا شروع کردیں گے۔ایسے کئی دوست ہیں ایک دفعہ نہیں بیسیوں مرتبہ یہ واقعہ گزر چکا ہے۔ایک دوست نے مجھے لکھ کر اپنا چندہ آدھا کر والیا، چوتھا حصہ کروالیا کہ ہم نے آپ کی بات سن لی ہے بات سمجھ آگئی ہے ہمیں اتنے کی توفیق ہے ہمیں اجازت دیں۔میں نے کہا منظور ہے بڑی خوشی کی ساتھ آپ اس طرح کریں اور چند مہینے کے بعد ہی ان کا خط آگیا کہ آپ اپنی وہ اجازت منسوخ کر دیں اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق