خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 608 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 608

خطبات طاہر جلدے 608 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء کرختگی پیدا ہوگئی ہے۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ دین کے معاملات بڑے نازک ہوا کرتے ہیں۔وہ محبتیں جو خدا کی خاطر قائم کی جاتی ہیں ان کا احترام کرنا پڑتا ہے۔تربیت کے معاملے میں سختی اور رعونت کبھی کام نہیں دیتی۔ہمیشہ محبت اور انکسار اور پیار ہی ہے جو روحانی رشتے باندھا کرتا ہے۔جب ان باتوں کی آپ میں کمی ہوگی تو کیسے ممکن ہے کہ آپ نشو ونما پائیں۔یا در رکھیں تربیت کرنے والوں کو خشکی زیب نہیں دیتی جن کی طبیعتیں خشک ہوں اور مزاجوں میں سختی پائی جائے ان کا تربیت سے کوئی تعلق نہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کا مربی بنایا اور آپ کو رحمتہ للعالمین قرار فرمایا۔اگر آپ رحمت نہ ہوتے تو آپ دنیا کے مربی بننے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر نہ فرمائے جاتے۔اس مضمون کو ایک دوسری جگہ کھولتے ہوئے فرمایا وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نَفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ( آل عمران : ۱۶۰) اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج یہ جو تو دیکھ رہا ہے کہ عشاق گروہ در گروہ تیرے اردگرد اکٹھے ہیں۔اگر تیرا دل سخت ہوتا اور تیرے مزاج میں کرختگی پائی جاتی تو یہ سارے تجھے چھوڑ کر بھاگ جاتے۔اس آیت کریمہ میں یہ نکتہ سمجھایا گیا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے علم وعرفان میں خواہ دنیا کے ہر پہلے اور ہر آگے آنے والے انسان سے بڑھ چکے تھے اور انتہائی نام جو علم وعرفان کا متصور ہو سکتا ہے اس پر آپ فائز فرمائے گئے لیکن اس کے باوجود محض آپ کا علم وعرفان اس بات کے لئے کافی نہیں تھا کہ تمام دنیا کو آپ ایک توحید کے جھنڈے تلے جمع کر لیتے۔اس کے لئے آپ کے دل کی نرمی تھی جس نے معجزے دکھائے ، جس نے حیرت انگیز کام دکھائے۔چنانچہ عربوں جیسی سخت دل قوم وہ قوم جو جب کسی سے دشمنی کرتی تھی تو بعض دفعہ سینکڑوں سال تک نسلاً بعد نسل دشمنی کرتی چلی جاتی تھی اور اپنی ضد سے پیچھے نہیں ہٹا کرتی تھی۔اس قوم کی دشمنی آپ نے شروع میں مول لی محض اللہ۔دل کی سختی کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ کا مرتبہ اور مقام یہی تھا کہ جس مرتبے اور مقام پر فائز ہونے کے بعد دنیا دشمن ہو جایا کرتی ہے لیکن اس سختی کو آپ نے اپنے دل کی نرمی سے موم کر دیا، اپنے عجز کے ساتھ ان کی گردنیں ختم کیں اور ان کو جھکا دیا یہاں تک کہ وہ جو شدید دشمن تھے وہ انتہائی جان نثار دوست بن گئے۔اس عظیم الشان انقلاب میں جہاں آپ کی دعاؤں کا دخل تھا وہاں آپ کے دل کی نرمی کا بھی بہت دخل تھا۔آپ بے انتہا رحمت کرنے والے، مقام