خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 606
خطبات طاہر جلدے 606 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء بعد مختلف علم و دانش رکھنے والے دوست ، صاحب حیثیت لوگ بھی اور ہر طبقے سے مختلف وقتوں میں انگریز جماعت میں داخل ہوتے رہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد یاوہ ٹھنڈے پڑ گئے یا خاموشی کے ساتھ باہر چلے گئے۔بالعموم ایک بات ضرور ہوئی کہ ان کی آئندہ نسلیں جماعت کا جز نہ بن سکیں۔چنانچہ جب میں انگلستان آیا اور میں نے صورت حال کا تفصیل سے جائزہ لیا تو پتا لگا کہ بنیادی طور پر یہی بیماری ہے جس نے اتنے خطرناک اور مہلک نتائج نکالے۔ایک مجلس میں جہاں چند پاکستانی یا ہندوستانی اکٹھے ہو جائیں قطع نظر اس بات کے کہ وہاں کوئی دوسری زبان بولنے والے لوگ موجود ہیں ، مقامی باشندے ہیں آپس میں اردو یا پنجابی بولنے لگ جاتے ہیں اور بالکل بھول جاتے ہیں کہ کچھ ایسے ہمارے معزز مہمان ہیں جو دین کی خاطر اپنے رشتہ منقطع کر کے ہمارے اندر داخل ہوئے ہیں، اپنے معاشرہ کو انہوں نے خیر باد کہا، ایک نئے معاشرہ کو قبول کرنے کی خاطر اپنے مذہب کو، اپنی قومی روایات کو سب کو انہوں نے پیچھے چھوڑ دیا اور اپنے لئے ایک نئی زندگی اختیار کرلی۔اس کے باوجود جن لوگوں میں، جن پر ان کو یہ توقع تھی کہ وہ اپنا بنا ئیں گے انہوں نے ان کو اپنا نہیں بنایا۔ان کو غیروں کی طرح اپنے سے الگ رکھا، ان کو اپنے اندر جذب نہیں کیا ، ان کے ساتھ غیر معمولی پیار اور محبت کا سلوک نہیں کیا۔یہ کوشش نہیں کی کہ ان کو تنہائی کا احساس نہ ہو۔چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ عرصہ کی تنہائی کے بعد پھر وہ بالآخر واپس اپنے معاشرہ میں لوٹ گئے۔چنانچہ بعض انگریز نو مسلموں سے میں نے خود اس بارہ میں گفتگو کی تو انہوں نے مجھے یہی وجہ بتائی۔انہوں نے کہا کہ اب بھی یہ ہورہا ہے، ہم باہر سے آتے ہیں اپنی تمام رسموں کو خیر باد کہ دیتے ہیں ، اپنے تمام تعلقات منقطع کر لیتے ہیں عمد ا نہیں بلکہ مجبوراً کیونکہ نہ ہم شراب پیتے ہیں نہ ڈانس کرتے ہیں ، نہ اور دوسری گندی عادتیں ہم میں باقی ہیں جو اس قوم کے معاشرہ کا جزو ہیں تو ہمارے دوست ہم سے گریز کرنے لگ جاتے ہیں ، ہمارے رشتہ دار ہم سے گریز کرنے لگ جاتے ہیں۔رفتہ رفتہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم ان سب سے کٹ کے الگ ہو چکے ہیں۔اس کے بعد اگر جماعت احمدیہ کے باہر سے آکر یہاں بسنے والے افراد بھی ہمیں اپنی سوسائٹی کا جز نہ بنائیں ہم سے پیار اور محبت کا سلوک نہ کریں ہم جمعہ پر جائیں تو ایک طرف بیٹھے رہیں۔اردو میں خطبہ ہو اردو میں باتیں ہوں اور نماز پڑھ کر کچھ دیر کے بعد ہم واپس تنہائی کا احساس لئے ہوئے گھروں کو لوٹ آئیں۔یہ کس حد تک انسان برداشت کر سکتا ہے