خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 604 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 604

خطبات طاہر جلدے انداز کر دیا گیا۔604 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء گزشتہ ادوار میں بارہا جماعت کو فعال قیادت بھی میسر آئی ہے اور بعض امراء جنہوں نے ایک لمبا عرصہ کینیا میں گزارا خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑے پر جوش اور باعمل، فعال امراء تھے اور ان کے زمانے میں مردنی نہیں بلکہ حرکت دکھائی دیتی ہے مگر اس کے باوجود ان کا رخ بھی ایشیائیوں ہی کی طرف رہا۔گویا وہ کینیا کے باشندوں کو ایک ثانوی حیثیت کا باشندہ سمجھتے تھے اور اہمیت دیتے تھے تو ایشیا سے آکر یہاں بسنے والوں کو۔چنانچہ ان ادوار میں جن کی میں بات کر رہا ہوں جب بیعتیں بھی ہوئیں تو وہ ایشیائیوں میں ہوئیں اور نئے رستے کھلے تو ایسی جماعتوں میں جن میں پہلے جماعت احمد یہ کونفوذ نہیں تھا مگر وہ بھی ایشیائی تھے۔مثلاً ایک زمانے میں جب یہاں نمایاں حرکت دکھائی دیتی تھی تو میمنوں میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض دوستوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی بعض خاندان احمدیت میں داخل ہوئے۔اسی طرح اسماعیلیوں میں سے بعض دوستوں کو احمدیت کی توفیق ملی اور اس پہلو سے کینیا باقی دنیا کی جماعتوں میں ایک امتیاز اختیار کر گیا کیونکہ بالعموم میمنوں اور اسماعیلیوں میں جماعت احمدیہ کی طرف آنے کا رجحان بہت کم پایا جاتا ہے اور کینیا اس پہلو سے خدا تعالیٰ کے فضل سے بازی لے گیا۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے بعد ان خاندانوں کو بھی سنبھالا نہیں گیا۔اول تو ان کے ذریعہ جو نئے روابط قائم ہوئے تھے ان روابط کو صحیح استعمال نہیں کیا گیا اور باقاعدہ ایک رو نہیں چلائی گئی جس کے نتیجہ میں کثرت کے ساتھ میمن دوستوں کا یا اسماعیلی دوستوں کا جماعت کی طرف رجحان ہوتا۔صرف یہی نہیں بلکہ ان کے خاندان کے بعد کے آنے والے بچوں کو بھی سنبھالا نہیں گیا اور کسی نے پرواہ نہیں کی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔چنانچہ گزشتہ چند سال پہلے مجھے اس بات کا خیال آیا کہ میں پوچھوں تو سہی کہ وہ دوست کہاں گئے آخر۔ایک زمانہ تھا جب کہ ان کے نام نمایاں طور پر جماعت میں معروف تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے اخلاص کے بہت سے واقعات سنائے جاتے تھے، ان کی قربانیوں کے بہت سے واقعات سنائے جاتے تھے۔چنانچہ جب میں نے موجودہ امیر صاحب کو لکھا کہ آخر وہ بچے کہاں گئے ، ان کی اولاد میں کہاں گئیں مجھے بتائیں تو سہی کہ وہ کہاں رہتے ہیں اور کیا ہوا ان کے ساتھ تو یہ افسوسناک حقیقت سامنے آئی کہ ان کو ایک لمبے عرصے سے جماعت نے نظر انداز کئے رکھا ہے اور اس کے نقصانات جولا زما پہنچنے چاہیئے تھے وہ پہنچے