خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 603 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 603

خطبات طاہر جلدے 603 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء ان کے یہاں رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑا اس لئے اس وجہ کوکسی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔جہاں تک دوسری وجہ کا تعلق ہے جب سے میں کینیا آیا ہوں اور مجھے آئے ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے میں نے بہت سی ملاقاتیں کیں ہیں اور اپنے ذاتی مشاہدے کی بنا پر میں اس وجہ کو بالکل غلط سمجھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں ہرگز کسی قسم کا کوئی قحط الرجال نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑے بھی اور چھوٹے بھی ہر قسم کے احمدی دوست جن سے میری ملاقاتیں ہوئیں ہیں۔جن کو میں نے کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔سب کو میں نے غیر معمولی اخلاص کے جذبے سے سرشار پایا ہے۔ان کے اندر کسی پہلو سے کوئی کمی نہیں ہے۔بہت ذہین نوجوان ہیں، کثرت کے ساتھ اچھے تعلیم یافتہ ہیں۔ان کے اندر جماعت کے ساتھ محبت موجود ہے، کام کا جذبہ ہے، کام کا سلیقہ موجود ہے۔اس لئے یہ کہنا کہ قحط الرجال کے نتیجہ میں یہ جماعت ترقی سے محروم رہ گئی یہ درست نہیں۔ہاں قیادت میں قحط ایک ایسی چیز ہے جسے تسلیم کیا جا سکتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ بنیادی وجہ قحط الرجال نہیں بلکہ قحط القیادت ہے۔جس قسم کی فعال قیادت کی ضرورت ہے جو جذبے سے بھر پور ہو، جو حکمت کے ساتھ اور محبت کے ساتھ احمدی نوجوانوں کو بڑوں اور چھوٹوں کو اپنے ساتھ ملا کر ایک فعال جماعت کے طور پر آگے بڑھنے کے جذبے سے ان کو بھر دے ایسی قیادت معلوم ہوتا ہے یہاں میسر نہیں اور اسی کی وجہ سے ایک قسم کی مردنی سی چھائی ہوئی ہے۔اس سے پہلے کے دور میں بھی جو قیادت یہاں میسر تھی اس کا زیادہ تر رخ ایشیائی باشندوں کی طرف ہی رہا اور مقامی جو کینین باشندے ہیں، کینیا کے باشندے ہیں جو دراصل اس وطن کے مالک ہیں، اس وطن کے بچے ہیں، اس وطن کی وطنیت ان کی شخصیت کے ساتھ وابستہ ہے۔ان کی ذات کینیا ہے اور کینیا وہ لوگ ہیں جو اسی Soil کے، اسی زمین کی پیداوار ہیں اور نہ صرف یہ کہ آج بلکہ ہزار ہا سال سے وہ کینیا کی تاریخ بنارہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقی کینین ہیں۔جو باہر سے آنے والے ہیں اگر چہ ان کو یہاں نیشنیلٹی یا قومیت مل بھی گئی اور جہاں تک ان کی اپنی نفسیاتی کیفیت کا تعلق ہے یہ بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ وہ پنے آپ کو کینین ہی سمجھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ایک فرق ہے جو بہر حال قائم رہے گا مقامی باشندے بہر حال مقامی باشندے ہیں اور گزشتہ قیادتوں میں بھی سوائے اس کے کہ کبھی کبھی ایک تبدیلی ہوئی عموماً گزشتہ قیادتوں کا رجحان بھی ایشیائی باشندوں کی طرف رہا اور مقامی باشندوں کو نظر