خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 599
خطبات طاہر جلدے 599 خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۸۸ء لوگوں کو سمجھائیں، اُن کی غلطیوں کولوگوں کے سامنے ننگا کریں اور دیکھیں پھر رفتہ رفتہ مزاج بدلتے ہیں لیکن جو ڈیموکریسی آزاد ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے دوبارہ اگر اُس ڈیموکریسی کو زنجیریں پہنانے میں کوئی کردار ادا کیا تو ہمیشہ کے لئے قوم کی نگاہ میں اور آئندہ مؤرخین کی نگاہ میں آپ غداروں کی فہرست میں لکھے جائیں گے اور پھر یہ قوم اور خطرات میں مبتلا ہوگی جو مجھے نظر آرہے ہیں۔خانہ جنگی بھی ہو سکتی ہے اور کئی قسم کے ایسے مہلک اور بھیا نک خطرات ہیں جو چاروں طرف سے پاکستان کے اوپر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔اس لئے یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنے یا حسد کے زمانے گزر گئے۔ان کے نتیجے میں معمولی نقصان ہوا کرتے تھے اب ساری قوم کی بقا کو خطرہ ہے اس لئے خدا کے لئے ان سازشوں کو اب ختم کریں اور خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے حالات کو اپنی نہج پر چلنے دیں۔ان میں دخل نہ دیں اور جو جائز کوشش ہے عوام الناس کے سامنے آنے کی وہ پوری اختیار کریں۔اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو عقل دے اور سمجھ دے اور تمام دنیا کے احمدیوں کو درددل سے دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ احمدیوں کی دعاؤں میں عظیم الشان طاقت ہے۔بہت ہی بڑی طاقت ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی خاطر ہم نے اپنا سب کچھ بیچ ڈالا ہے،اس کا نام بیعت ہے۔اور اللہ تعالیٰ سب وفاداروں سے بڑھ کر وفادار ہے ہم گناہ گار بھی ہیں اس کے باوجود ہماری دعا ئیں سن لیتا ہے، ہم تعجب سے دیکھتے ہیں، یہ کیا بات ہے۔ہم اس لائق نہیں، ہم میں کوئی تقدس نہیں ہے پھر بھی وہ سنتا ہے اس لئے کہ بہت ہی وفا کرنے والا ہے۔یہ دنیا کی طاقتیں تو ہرگز وفا کرنے والی نہیں ہیں۔آپ نے دیکھا نہیں شاہ ایران کا کیا انجام ہوا تھا؟ یا کابل کے ایک کے بعد دوسرے سر براہ کا کیا انجام ہوا تھا۔روس ہو یا امریکہ ہو کسی میں کوئی وفانہیں ہاں ہمارے خدا میں وفا ہے اور وہ سب وفاداروں سے بڑھ کر وفا دار ہے۔اس لئے میں جانتا ہوں یقین کے ساتھ آپ کو بتا رہا ہوں کہ آج دنیا میں سب سے طاقتور چیز احمدی کی دعا ہے۔اس لئے آپ دعاؤں پر تو کل کریں خدا نے آپ کو نشان دکھائے ہیں ان دعاؤں کے۔اب آپ کو کیا حق ہے کسی قسم کے شک کو دل میں جگہ دیں۔دعائیں کریں اور پورے یقین اور کامل تو کل کے ساتھ دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کی نصرت فرمائے گا، اور پاکستان میں اگر حالات بہتر ہوئے اور امن کے حالات قائم ہو گئے اور انسانی