خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 595 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 595

خطبات طاہر جلدے 595 خطبه جمعه ۲۶ راگست ۱۹۸۸ء مفاد کو کوئی خطرہ ہو جو ہتھیار عطا کرنے والی ہیں تو اُس وقت یہ ہتھیار استعمال ہوں اور اُس سے پہلے اپنے مفاد کے لئے کسی قوم کو ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوا کرتی۔چنانچہ آپ پچھلی جنگوں کی تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں امریکہ نے پاکستان کی بڑی سختی سے جواب طلبیاں کی ہوئی ہیں کہ تم ہوتے کون تھے ان ہتھیاروں کو جو ہم نے تمہیں روس کے خلاف استعمال کرنے کے لئے دیئے تھے ہندوستان کے خلاف استعمال کرنے والے۔یعنی خطرہ پاکستان کو ہندوستان سے ہے اور ہتھیار جمع ہورہے ہیں روس کے لئے اور اگر روس سے خطرہ ہو تو وہ ہتھیار ویسے ہی کام نہیں آئیں گے۔یہ قوم جل بھن جائے گی پھر بھی وہ ہتھیار حقیقی معنوں میں کسی کام نہیں آسکتے۔صرف وقتی طور پر اتنی مہلت دے سکتے ہیں قوموں کو کہ وہ داخل ہو جائیں اور پھر ایک لمبی دردناک تباہ کن جنگ میں ساری قوم کو جھونک دیا جائے تو خطرہ جو ہے وہ کسی اور کوکسی اور سے ہے اور ہتھیار دیئے جارہے ہیں ان غریب ملکوں کو اور اُن کے استعمال سکھائے جارہے ہیں۔اور انٹیلی جنس کے اعلیٰ سے اعلیٰ ہوائی جہاز دیئے جارہے ہیں شرط یہ ہے کہ اس انٹیلی جنس کی آنکھ اُس طرف کھلی رہے گی جس طرف سے ہمیں خطرہ ہے۔اُس طرف نہیں کھلے گی جس طرف سے تمہیں خطرہ ہے۔چنانچہ بڑی سختی جواب طلبیاں ہوئیں اور اس کے نتیجے میں پھر ہتھیاروں کی امداد بند کر دی گئی۔دوسری امداد بھی بند کر دی گئی کہ تم نے اپنے دشمن کے خلاف استعمال کر لی تم بڑی جرأت رکھتے ہو بڑے بے حیا لوگ ہو۔ہم سے ہتھیار مانگ کر اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال کر رہے ہو۔وہ تو ہمارے ہتھیار ہیں ہمارے دشمنوں کے خلاف استعمال کرو۔یہ ایک طبعی نتیجہ ہے۔اس لئے یہ ساری تیاریاں پاکستان کے اُس وقت تک کام نہیں آسکتیں جب تک مالک اور غلام کے دشمن بالکل ایک نہ ہو جائیں۔جہاں اُن دشمنوں میں تفریق ہوگی خواہ آپ کو حقیقی خطرہ کسی اور طرف سے بھی ہو گا آپ اس فوجی طاقت کو اُس کے خلاف استعمال نہیں کر سکتے۔اجازت لینی پڑے گی۔تو پس Master not Friends یہ آقا بن چکے ہیں دوست نہیں رہے۔اس لئے یہ ساری پالیسی نظر ثانی کی محتاج ہے۔کس حد تک ہمیں خطرہ ہے، کہاں کہاں سے ہمیں خطرہ ہے اور جس قسم کے خطرات ہیں اُس کے مقابلے کے لئے قوم کو تیار کرنا چاہئے نہ کہ آنکھیں بند کر کے بڑی طاقتوں کے ہاتھ میں کھلونا بن جائیں اور آپ کے اندر سودا بازی کی طاقت ہے اپنی جغرافیائی حیثیت