خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 594 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 594

خطبات طاہر جلدے 594 خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۸۸ء کو برقرار رکھنے میں کام تو کرتا ہے لیکن غیر معمولی استفادہ نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ تنخواہیں بڑھ جائیں اُن کی۔سوائے اس کے کہ بعض تحکمات حاصل ہو جا ئیں کسی ڈپٹی کمشنر کو جا کر دھمکایا جا سکے کسی پٹواری پر رعب ڈالا جا سکے۔یہ چند معمولی معمولی فوائد ہیں جو کم و بیش ہر کس و ناکس کومل جاتے ہیں لیکن مجموعی طور پر جو طاقت کے سرچشمے پر قابض ہونے کے نتیجے میں مفادات حاصل ہور ہے ہوتے ہیں اُس میں سارے شریک ہو نہیں سکتے۔بدنامی میں سب شریک ہوتے ہیں اور ہمارے ملک میں خصوصیت کے ساتھ فوج میں غیرت موجود ہے اور حب الوطنی موجود ہے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ جولوگ کہتے ہیں کہ ہماری فوج نعوذ باللہ من ذالک غدار ہو چکی ہے یہ بالکل جھوٹ ہے۔اس فوج کو ملک پر قابض رکھنے کے لئے آئے دن ایسے بہانے تراشے جاتے ہیں جن کے نتیجے میں فوج کو یہ احساس رہتا ہے کہ اگر ہم نے موجودہ سربراہوں کو دوام نہ بخشا تو ملک کو خطرہ ہے،موجودہ طاقت کو خطرہ نہیں بلکہ ملک کو خطرہ ہے۔چنانچہ یہ احساسات کئی طریق سے پیدا کئے جاتے ہیں۔اس کی تفصیل میں جانے کی یہاں ضرورت نہیں ہے تمام سیاست دان سمجھتے ہیں ان باتوں کو کہ کئی ذرائع سے فوج میں عدم استحکام کا احساس پیدا کیا جاتا ہے ملک کے لئے اور یہ نہیں کہا جاتا کہ ہمارا ٹولہ ہے اسے تم برقرار رکھو۔کہتے ہیں کہ دیکھو خطرات ہیں قوم کے لئے ملک کے لئے اسلام کے لئے جو بھی تمہیں عزیز ہیں اُن سب کو خطرہ ہے ساری قوم ان سب چیزوں کی دشمن بن چکی ہے جو ساری قوم کو عزیز ہونی چاہئے ، ساری قوم پاگل ہو چکی ہے اس لئے جب تک ہم میں یہ اعلیٰ اقدار باقی رہیں گی جب ہم گئے تو یہ ساری اقدار مٹ جائیں گی کیسی جہالت کی بات ہے۔ساری قوم اپنی دشمن ہو چکی ہے۔کیسے ہو سکتا ہے قوم اپنی دشمن ہو جائے۔قوم دشمن نہیں ہوا کرتی لیکن مصنوعی طور پر فوج اور قوم کے درمیان فاصلے پیدا کئے جاتے ہیں اور عام فوجی اور عام افسر کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ تم گویا کہ محافظ ہو اس وطن کے۔اندرونی خطرات ہیں بیرونی خطرہ ہی کوئی نہیں۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر بیرونی خطرہ نہیں تو اتنے ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہے باہر سے جو بے شمار مانگنے جاتے ہیں وہ کس لئے مانگنے جاتے ہیں۔امر واقعہ یہ کہ وہ بھی ہر گز اس لئے نہیں مانگے جاتے کہ قوم کو اگر کسی سے خطرہ ہو تو اُس کے خلاف استعمال ہوں۔وہ اس لئے عطا کئے جاتے ہیں۔مانگے خواہ کسی غرض سے جائیں۔عطا اس لئے کئے جاتے ہیں کہ اُن بڑی طاقتوں کے