خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 593
خطبات طاہر جلدے 593 خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۸۸ء میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ظلم کی حد ہوا کرتی ہے اور ایک حد سے زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔گیارہ سال کا زمانہ قریب الاختتام تھا اور کچھ آگے بڑھتا تو دھماکے کے ساتھ ایک انقلاب رونما ہو جا تا۔اس سلسلہ کو روک دیا گیا ہے۔اس وقت آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا دوبارہ یہ گیارہ یا بائیس سال کا زمانہ میں داخل ہونا ہے یا اُس سرنگ میں نہیں جانا دوبارہ جس میں ایک دفعہ آپ داخل ہوئے تھے اور پھر جب تک اُس کا کنارہ نہیں آئے گا اُس وقت تک آپ باہر نہیں نکل سکیں گے۔اُس وقت اگر آپ نے دوبارہ کسی تسلط کو قبول کر لیا تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے چونکہ اس تسلط کے نتیجے میں جرائم بڑھتے ہیں، مافیا قسم کے ٹولے اوپر آجاتے ہیں اور اُن کے بقا کا تقاضا یہ ہوا کرتا ہے کہ ایک دوسرے کی آنکھیں بند کر کے مدد کریں خواہ وہ اخلاقی حرکتیں کر رہے ہوں یا غیر اخلاقی حرکتیں کر رہے ہوں۔اس لئے خدا کے واسطے اس قوم کو دوبارہ کسی مافیا کے سپرد نہ کریں اگر آپ نے طاقت مانگ کر حاصل کی تو خواہ کسی پارٹی کے نام پر آپ کو طاقت ملے آپ پھر غلام رہیں گے اور قوم کو دوبارہ غلام بنادیں گے اور چونکہ یہ سلسلے لمبے نہیں چل سکتے قانون قدرت اندرونی طور پر ایسے ردعمل پیدا کر دیا کرتا ہے کہ جس کے نتیجے میں عوام الناس کے جذبات اونچے ہونے شروع ہو جاتے ہیں قربانی کے لئے، سب کچھ کر گزرنے کے لئے اور قربانی کے جذبے کے ساتھ قربانی کرنے کا واقعہ مادہ بنا شروع ہو جا تا ہے اس لئے کہ Desperation کی حالت آجاتی ہے۔ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ سمجھتے ہیں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں رہا اور زندگی اور موت ایک جیسی ہوگئی ہے۔اُس وقت قو میں ایک دھماکے کے ساتھ اپنے آقاؤں کو اُتار پھینکا کرتی ہیں اور بہت ہی خون ریز حالات پیدا ہو جاتے ہیں ملک میں۔خصوصیت کے ساتھ اگر یہی مشکل آپ تصور کریں فوج کے اُس طبقے میں بھی ظاہر ہونا شروع ہو جائے جسے ہم Have Nots کہہ سکتے ہیں۔Have Nots سے مراد وہ طاقت کو قائم رکھنے میں تو شریک ہیں لیکن طاقت سے استفادہ کرنے میں شریک نہیں ہیں۔اب یہ ناممکن ہے کہ دنیا کی کوئی فوجی طاقت اپنے تمام افراد کو لوٹ مار میں شریک کر سکے اور مراعات میں شریک کر سکے۔لوٹ مار کا لفظ تو بہت کڑوا لگے گا بعض لوگوں کو یعنی طاقت کے نتیجے میں جو طبعی مراعات حاصل ہوتی ہیں اُن میں میں کہتا ہوں کہ وہ شریک کر سکے یہ ہو نہیں سکتا۔بھاری طبقہ ایک ایسارہ جاتا ہے جو طاقت