خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 591
خطبات طاہر جلدے 591 خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۸۸ء کسی قیمت پر بھی امریکہ ہو یا کوئی اور یورپین طاقت ہو یہ برداشت نہیں کر سکتی۔اس لئے جو چیز آپ کی ہے اور آپ لے سکتے ہیں وقار کے ساتھ، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آپ لے سکتے ہیں اُس کو بھیک منگے بن کر حاصل کرنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں۔کھلم کھلا صاف جواب ہونا چاہئے کہ تم مد د دویا نہ دو جب تک پہلے تم یہ نمونہ اپنے ملک میں نہ دکھاؤ کہ اپنی فوج کو اپنے عوام پر مسلط کرو اس وقت تک ہم یہ کام نہیں کرنے دیں گے۔اگر یہ نیکی ہے اگر یہ بھلائی ہے تو آؤ اس میں سبقت لے کر جاؤ۔یورپ کی ساری حکومتیں فوج کے سپرد کر دو۔امریکہ کی ہر اسٹیٹ فوج کے قبضے میں چلی جائے۔پھر ہم سمجھیں گے کہ تم سچے ہو پھر ہم بھی کہیں گے کہ ہاں ٹھیک ہے ہمارے اوپر بھی فوجی تسلط جاری رہنا چاہئے لیکن اپنے ملک میں اور پیمانے ہوں ہمارے ملک کے لئے اور پیمانے ہوں یہ نہیں ہوسکتا۔اس لئے میں پاکستان کے ارباب حل و عقد کہیں یا عوام الناس کے نمائندے ہوں اُن سب سے یہ عاجزانہ اپیل کرتا ہوں کہ اپنے مقام کو پہچانیں۔اپنے قدموں پر کھڑے ہوں۔طاقت آپ کے پاس ہے۔بین الاقوامی طاقتوں کے آپس کے معاملات اس قسم کے ہیں کہ ان میں آپ کو کوئی مجبور نہیں کرسکتا اس لئے آپ سر اٹھا کر سر بلندی کے ساتھ آگے بڑھیں اور اپنے مطالبے پر قائم رہیں۔اپنی طاقت نہ اپنی فوج سے مانگیں نہ کسی اور حکومت سے مانگیں۔حالات ایسے پیدا ہور ہے ہیں جب یہ لوگ مجبور ہوں گے آپ کو آگے لانے پر اور آپ کی طاقتیں آپ کے سپرد کرنے پر لیکن اگر آپ میں سے بعض ان کی طرف دوڑے اور وہی غداری کی کھیل دوبارہ شروع ہوگئی کہ کمزوروں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ ہم بڑوں کے ساتھ لگ کر طاقت میں شریک ہو جائیں گے طاقتوں پر ناجائز قبضے کئے تو پھر اس کے بعد دوبارہ آپ کو یہ موقع نصیب نہیں ہوسکتا۔پھر اور خطرناک چیزیں ہیں جواس ملک کے مقدر میں لکھی جائیں گی۔مجھے یاد ہے جنرل ایوب نے جب مارشل لاء لگایا تو کچھ عرصے کے بعد انہوں نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ امریکہ ہم سے وہ معاملہ نہیں کر رہا جس کی اُس سے توقع تھی اور اُن کے دل میں کڑواہٹ پیدا ہونی شروع ہوئی جو بڑھتی چلی گئی۔چنانچہ وہ کتاب جو انہوں نے اپنے آخری ایام ہے Friends Not Masters اُس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بعض دفعہ دبے لفظوں میں لکھی۔میں۔بعض دفعہ کھلے لفظوں میں انہوں نے امریکہ کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ تم اگر ماسٹر ز بن کر