خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 586 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 586

خطبات طاہر جلدے 586 خطبه جمعه ۲۶ اگست ۱۹۸۸ء تعلقات کو بڑھاتے ہیں اور فروغ دیتے ہیں کہ کوئی ایسا وقت آئے گا جب ہمیں طاقت حاصل کرنے کے لئے فوج کی مدد کی ضرورت پڑے گی۔اُن کے دل قطعی طور پر اس مایوسی کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں کہ فوجی طاقت سے کچھ چھینا ہمارے لئے ممکن نہیں لیکن بھیک مانگناممکن ہے اور بھیک مانگنے کے لئے اُن کو اُن کے Right Side پر اُن کے داہنے ہاتھ پر رہنا پڑتا ہے۔اس لئے وہ اپنے خفیہ تعلقات کو بڑھاتے ہیں اور اُن کو ضروری خبریں بھی مہیا کرتے ہیں کہ ہماری مجلسوں میں کیا کیا باتیں طے ہوئیں اور اپنی طاقت محسوس کرتے ہیں بظاہر یہ سوچتے ہوئے کہ ہم غداری نہیں کر رہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑی حکمت سے اور سیاست سے کام لیا ہے۔قوم کو مزید فتنوں اور خون خرابے سے بچانے کے لئے ہم نے نہایت ہی عمدہ حکمت عملی اختیار کی ہے۔فوجی طاقت سے روابط بڑھائے ہیں اور اُن میں جو طاقتور ہیں اُن سے دوستی کو فروغ دیا ہے۔نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہم اس دوستی کے ذریعے اُن کو یہ یقین دلائیں گے کہ تمہیں ہر دوسرے سے خطرہ ہوسکتا ہے ہم سے خطرہ نہیں ہوسکتا۔ہم تو تمہارے ساتھ چلنے والے ہیں ہم تو تم پر بناء کرنے والے ہیں اس لئے اگر اس وجہ سے تم طاقت عوام کو منتقل نہیں کر رہے کہ تمہیں خطرہ ہے عوام اگر او پر آئے تو ہمارے جرائم کا حساب لیں گے تو ہم تو اُن میں سے نہیں ہیں۔ہم تو تمہارے ساتھی اور دوست ہیں اس لئے تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ جب بھی طاقت کے انتقال کا وقت آئے ہم سے رابطہ کرو اور ہمارے سپر د کرو۔یہ سلسلہ دنیا میں ہر جگہ جاری ہے اور چونکہ قرآن کریم فرماتا ہے وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ اس لئے میں سوچ ہی نہیں سکتا کہ ہمارے ملک میں جاری نہ ہوں۔میں تفصیل نہیں جانتا، میں سیاست سے بے تعلق ہوں، مجھے یہ نہیں پتا کہ کون کس سے رابطہ رکھ رہا ہے۔مگر قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ کچھ لوگ کچھ لوگوں سے رابطے رکھ رہے ہیں۔فساد پھیلا ہوا ہے اور یہ فساد بڑھ رہا ہے۔نتیجہ اُس کا یہ نکلتا ہے کہ جیسے غالب نے کہا ہے کہ آج ادھر کو ہی رہے گا دیدہ اختر کھلا (دیوان غالب صفحه :۴۳) کہ آج تو اس ستارے کی آنکھیں اُسی طرف کھلی رہیں گی اور ہماری طرف اُس کا کوئی نور نہیں آئے گا۔وہ Military Intelligence جس کی آنکھیں غیر کو دیکھنے کے لئے بنائی جاتی