خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 585
خطبات طاہر جلدے 585 خطبه جمعه ۲۶ اگست ۱۹۸۸ء کہ دشمن کی طرف نظر کرے اور اُن کے حالات کا جائزہ لے وہ اپنے ہی ملک کے اوپر اپنے ہی ملک کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے وقف ہو جاتی ہے۔دو طرف سے خطرات اس کے لئے پیدا ہوتے ہیں : اول یہ کہ فوج کے اندر وہ حصہ جو مراعات میں شریک نہیں ہے اور طاقت میں شریک نہیں ہے لیکن طاقت کو سنبھالنے کا ذریعہ ہے اس حصے کے دل میں یہ خیال نہ پیدا ہونے شروع ہو جائیں کہ ملک سے کیا ہو رہا ہے۔چند بڑے لوگ ہمیں استعمال کر کے ہماری طاقت کے بل پر عوام الناس پر مسلط ہیں اور اُس کے نتیجے میں ہم دن بدن بدنام ہوتے چلے جارہے ہیں اور وہ فوج جو اپنے ملک میں بدنام ہو رہی ہو اُس کے اندر بے چینی پیدا ہو جاتی۔یہ بے چینی چونکہ آزادی کے خیالات کو جنم دیتی ہے اس لئے لازم ہے کہ فوجی ٹولہ زیادہ گہری نظر سے مطالعہ کرتار ہے کہ کہاں کہاں بے چینی پائی جاتی ہے۔کس قسم کے لوگوں سے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔چنانچہ Military Intelligence جو در حقیقت دشمن کی حرکات سکنات کی نگرانی کے لئے قائم کی جاتی ہے وہ اپنوں کی حرکات وسکنات کی نگرانی پر وقف ہو جاتی ہے پھر چونکہ عوام سے خطرہ ہوتا ہے اُن عوامی طاقتوں سے خطرہ ہوتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ قانون قدرت کے طور پر تو ہم اس لئے بنائے گئے تھے کہ حکومت کے مصالح کا فیصلہ کریں اور ارباب حل و عقد نہیں۔تمام قوم کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری طبعا ہم پر عائد ہوتی ہے اور ہمیں محروم کیا جا رہا ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ Military Intelligence کی شاخیں پھر ہر سیاسی گروہ میں داخل ہونا شروع ہو جاتی ہیں یا یوں کہنا چاہئے کہ اُن کی جڑیں پھیلنے لگتی ہیں اور تمام سیاسی طاقتوں میں اُن کی کوئی نہ کوئی جڑ داخل ہو جاتی ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام الناس حیران ہوکر دیکھتے ہیں کہ ہم سے ہو کیا رہا ہے۔ہر سیاسی کوشش جو جنم لیتی ہے، ہر سیاسی تحریک جو پیدا ہونے لگتی ہے وہ کسی نہ کسی طرح بد انجام کو پہنچ جاتی ہے اور حیران ہوتی ہے دنیا یا عوام الناس کہ ہم سے ہو کیا رہا ہے۔ہمارے جذبات سے کھیلنے والے ہمارے جذبات سے کھیلتے ہیں انہیں انگیخت کرتے ہیں ہمیں گلیوں میں لاتے ہیں اور پھر نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہر سیاسی پارٹی میں Intelligence کے نمائندے موجود ہوتے ہیں اور وہ ان رابطوں پر خوش ہوتے ہیں۔پھر جب معاملہ آگے بڑھتا ہے یعنی مرض مزید شدت اختیار کرتا ہے تو بہت سے سیاسی رہنما اس بات میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ اُن کے فوجی Intelligence سے تعلقات ہیں اور وہ اس اُمید میں ان