خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 581
خطبات طاہر جلدے 581 خطبه جمعه ۲۶ اگست ۱۹۸۸ء آمریت کے نقصانات نیز پاکستان کے نازک سیاسی موڑ پر سیاسدانوں کو مشورے اور ان کی راہنمائی خطبه جمعه فرموده ۲۶ اگست ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی : قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا اعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ (النمل: ۳۵) پھر فرمایا: اس آیت میں اُس مشورے کا ذکر ہے جو ملکہ سبا نے اپنی قوم کے جرنیلوں کو دیا تھا۔یہ اُس وقت کی بات ہے جب حضرت سلیمان کالشکر ملک کے دروازے کھٹکھٹا رہا تھا اور حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے ملکہ سبا کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ امن کی راہ سے تم ہما را تسلط قبول کرلو۔اُس وقت ملکہ سبا نے اپنے بڑے لوگوں کو اکٹھا کیا، قوم کے جرنیلوں کو اکٹھا کیا اور انہیں سمجھایا کہ جب بادشاہ فوج کشی کے ذریعے ملک میں داخل ہوا کرتے ہیں اور ملک فوجی تسلط میں چلا جاتا ہے تو اُس کے بعض نقصان ہوتے ہیں۔پہلی بات کہ جب فوجیں کسی ملک پر زبر دستی قبضہ کرتی ہیں تو لازماً اُس ملک میں فساد پھیلاتی ہیں اور اُس کے بڑے لوگوں کو چھوٹا کر دیا کرتی ہیں اور چھوٹوں کو بڑا کر دیا کرتی ہیں۔وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو میں حضرت سلیمان کے متعلق خصوصیت کے ساتھ کہ رہی ہوں یہ ایک ایسا قانون ہے جو تمام دنیا میں عام ہے اور تمام دنیا کی تاریخ اس پر گواہ ہے