خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 577
خطبات طاہر جلدے 577 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء طاقت کر دیتی ہیں۔پھر وہ جوں جوں بھی ظلم میں بڑھتے ہیں وہ مجبور ہوتے ہیں کسی بڑی طاقتور قوم کا سہارا لینے پر اور جن لوگوں نے اُن کو مسلط کیا ہو وہ اُن کی طرف جھکتے ہیں اور مزید یہ تعلق بڑھتے چلے جاتے ہیں۔یہاں تک کے اپنا ہی ملک ، اپنی ہی فوج کے ہاتھوں ایسی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے جس کے ٹوٹنے کے آثار نظر نہیں آتے اور جب آزادی کی باتیں ہوں بھی تو سودا بازی کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں آزادی کی باتیں نہیں ہورہی ہوتی۔چنانچہ آپ نے ایک بیان پڑھا ہوگا پاکستانی وزیر کا کہ ہم ترکی کے نظام حکومت کی طرز پر فوج کو جمہوریت کا مستقل حصہ دار بنالیں گے۔کیا مطلب ہے اس بیان کے پیچھے کیا بات ہے۔وہی کمزوری بنیادی طور پر۔آپ کو علم ہے یقین ہو چکا ہے کہ یہ فوج غالب آگئی ہے اور اس فوج سے ہم چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔اس لیے بطور رشوت ، بطور ضمانت آپ اپنے ہاتھ سے اپنی رگ گردن اُن کی اُنگلیوں میں تھما دیتے ہیں۔کہتے ہیں اچھا ہماری گردن پر ہاتھ رکھ لو یعنی 8th Amendment کی دوسری شکل ہے۔یہ فکر نہ کرو ہم بھاگ کر کہیں نہیں جاتے۔لعنت ہو ایسی آزادی پر ، ایسی جمہوریت پر۔یہ جمہوریت لے کر آپ عوام کے سامنے اُبھریں گے۔عوام اگر ہوشمند ہو تو اس جمہوریت کے منہ پر تھوکیں بھی نہیں۔یہ غلام جمہورت ہے۔صرف مشکل یہ ہے کہ ان کو طاقت میں آنے کی جلدی ہے۔بے چین ہیں کسی طرح ہم طاقت کے اوپر آجائیں۔ذرا صبر کریں میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر یہ صبر کا نمونہ دکھا ئیں اور سمجھانے سے کام لیں، عوام کو گلیوں میں نہ نکالیں تا کہ اُن کا خون ہو ، کوئی ضرورت نہیں ہمیں اتنی بڑی قربانی دلوانے کی عوام سے جو پہلے ہی مظلوم اور مارے ہوئے ہیں بیچارے ستم رسیدہ ہیں۔اُن کو کہاں آپ اپنی فوج سے ٹکراتے رہیں گے۔عقل سے کام لیں تحمل سے کام لیں ، معاملات کا صحیح تجزیہ کریں، اُن کو سمجھائیں کہ یہ کچھ ہورہا ہے اور مذاکرات کریں۔امریکہ سے بھی اسی طرح روشنی کے ساتھ مذاکرات کریں کہ دیکھوا گر تم باز نہیں آؤ گے تو پھر ہم مجبور ہو جائیں گے، جب ہمیں یہ پتا لگے گا کہ تمہارے ہاتھوں ہمیں مارکھانی ہی کھانی ہے۔تو پھر ہم مجبور ہوں گے پھر جو بھی کریں گے ہم آزاد ہیں اس میں اور پھر تم خود اُس Polorisation کو پیدا کرنے والے ہو گے جس میں دن بدن سارا ملک Left کی طرف جھکتا چلا جائے گا اور بائیں بازو کی طاقت بنتا چلا جائے گا اور جب یہ ہو جائے گا اُس وقت پھر روس کے پاکستان میں آنے سے، روس کو دنیا کی کوئی