خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 574 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 574

خطبات طاہر جلدے 574 خطبه جمعه ۱۹ را گست ۱۹۸۸ء چاہوں اس طاقت کو واپس لے سکتا ہوں اور اس شرط کے ساتھ چھوڑتا ہے۔چنانچہ اس سے پہلے جو نیجو صاحب کی حکومت اسی قسم کی سیاسی خود کشی کر چکی ہے اور 8th Amendment میں جو آٹھویں ترمیم میں بل منظور ہوا۔انہوں نے اپنے ہاتھ سے اُس طاقتور کو یہ تمام اختیارات دے دیئے کہ جب چاہیں آپ یہ ساری طاقت ہم سے چھین لیں تو بالکل بے طاقت ہو کے رہ گئے۔ایک ایسا تضاد پیدا ہوا پاکستان کی سیاست میں کہ اُٹھے تھے عوام کے پلیٹ فارم سے اور فوج کی چھت سے لٹک گئے اور دعویٰ یہ کیا کہ ہم Democracy کی آزادی یعنی جمہوریت کی آزادی کے علمبردار ہیں۔اگر عوام نے بچنا تھا تو عوام کے پلیٹ فارم پر کھڑے رہنا چاہئے تھا اور ہر گز طاقت حاصل کرنے کی خاطر کسی قسم کی کوئی مفاہمت نہیں کرنی چاہئے تھی۔دوٹوک فیصلہ کرنا چاہئے تھا۔ہم عوام کے انتخاب پر آئے ہیں بلا مشروط طاقت لیں گے اور اگر نہیں دینی بلا شرط طاقت تو ہم واپس جاتے ہیں عوام میں ہمیں اپنی ذات کے لیے کوئی طاقت نہیں چاہئے۔اگر یہ فیصلہ اُس وقت ہو جاتا تو جو واقعات بعد میں رونما ہوئے ہیں ہرگز رونما نہ ہوتے۔کئی قسم کی جو مصیبتیں بعد میں پاکستان پر پڑی ہیں وہ ہر گز نہ پڑتیں۔اس لیے دوسری تنبیہ میری یہ ہے کہ فوج سے معاملہ کرتے وقت یہ ہرگز نہ کریں کہ فوج ہمیں دے گی تو ہم راضی ہوں گے۔چنانچہ اسی لیے آپ حیران ہوں گے یہ دیکھ کر کہ وہ سیاسی پارٹیاں بھی جو فوج سے اندرونی طور پر سخت متنفر اور بے زار ہیں وہ بھی کھلم کھلا فوج پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔اس لیے کہ اُن کے لیے تیسری راہ کوئی نہیں ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے کیا تو کھل کر تبصرہ کر سکتے ہیں حالانکہ یہ میں مشورہ نہیں دے رہا۔جب ایسا تبصرہ کریں گے تو فوج متنبہ ہوگی اور زیادہ بد کے گی، اُس کو خطرات محسوس ہوں گے آپ کی طرف سے اور وہ چند جرنیل جو فوج کے نام پر قابض ہوا کرتے ہیں اُن کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔فوج کی رائے عامہ کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔کھلے کھلے بیانات کے ذریعے اخبارات کے ذریعے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہماری فوج کی اکثریت وفادار ہے، ہماری فوج کی اکثریت آج بھی ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے جب بھی ملک کے مفاد میں تقاضا ہوگا یہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ہمارے سپاہی وفادار ہمارے اکثر افسران وفادار، ان بیچاروں کو ان کے فوج کے ڈسپلن ، اُس کے نظم و ضبط نے ایسی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے کہ جو ایک دفعہ اوپر