خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 570
خطبات طاہر جلدے 570 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء اپنے اوپر مسلط کر لو سب بیماریوں کا حل ہے، سب گندگیاں اس سے دور ہو جائیں گی کالے اور سفید کے جھگڑے ختم ہو جائیں گے، سارے تمہارے مسائل آن واحد ختم ہو کر نیست و نابود ہو جائیں گے اور تم آزادی کا دم لو گے کہ اچھا پھر ہماری فوج جو صاف ستھری اور پاکیزہ عناصر پر مبنی ہے وہ ہم پر مسلط ہوگئی ہے۔آزاد ملک اس نسخے کو استعمال نہیں کرتے۔یہ بات ہمارا سیاستدان نہیں سمجھتا اور اس بات کو ان کے منہ پر نہیں مارتا نتیجہ ایک سیاست میں آزادی کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔سیاستدان ان غریب ملکوں کا سیاستدان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جب تک ان طاقتور ملکوں کو ہم خوش نہیں کریں گے۔اُس وقت تک یہ طاقت فوج سے ہماری طرف منتقل کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔یہ سب سمجھتے ہیں اچھی طرح کہ فوج بھی ان کی غلام ہے اور ہم بھی ان کے دست نگر ہیں، ان کے رحم و کرم پر ہیں۔یہ سمجھنے کے بعد پہلے اپنی شکست تسلیم کرتے ہیں اور پھر بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں کے لیڈراندراندرخفیہ مذاکرات ان طاقتوں سے کرتے ہیں جو ہماری آزادی کو چھینے والی ہیں اور اُن کو کہتے ہیں کہ دیکھو ہم تمہاری رائٹ سائیڈ پر ہیں۔ہم اچھے لوگ ہیں فکر نہ کرو، ہم پالیسیوں کو تبدیل نہیں کریں گے تم ہمیں اوپر آنے دو۔وہ یہ یقین کر بیٹھے ہیں کہ جب تک ان کی مرضی کی اطلاع فوج کو نہیں ملے گی فوج اقتدار کو ہمارے سپرد نہیں کرے گی۔گویا کہ دوسرے لفظوں میں فوج کی بالا دستی کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔تو جب زندگی کے سفر کا پہلا قدم یہ ہے کہ دو آقاؤں کی بالا دستی کو تسلیم کیے بغیر آپ آگے نہیں بڑھ سکتے اور پہلے قدم پر آپ نے یہ تسلیم کر لیا تو پھر قوم کی آزادی کی باتیں کرنے کا آپ کو کیا حق ہے۔کس طرح آپ قوم کو یہ دعویٰ دے سکتے ہیں کہ ہم آئیں گے تو ہم تمہیں ہر قسم کے مصائب سے، ہر قسم کے دکھوں سے آزاد کر دیں گے۔ایک غلام لیڈر کے جانے سے کیسے کام بنے گا اگر بعد میں دوسرا غلام را ہنما آگے آجائے اور اُس کے جانے سے کیا ہوگا اگر اُس کے بعد تیسرا غلام لیڈر آگے آجائے اس لیے صورتحال کو خوب اچھی طرح کھولنا چاہئے یعنی کھول کے دیکھنا چاہئے ، اس کا تجزیہ کرنا چاہیے اور سیاسی پالیسی اقتدار میں آنے سے پہلے بنی چاہئے اور عوام الناس کے سامنے اس کو خوب کھول کر بیان کرنا چاہئے کہ اس مصیبت میں کون گرفتار ہے۔جہاں تک ہمارا بس چلے گا یا چل سکتا ہے۔ہم یہ کاروائی کریں گے تمہیں آزادی دلانے کے لیے۔تجزیہ بذات خود ایک علاج ہوا کرتا ہے اگر صحیح تجزیہ ہو جائے تو بعض دفعہ معمولی سی کوشش سے بیماری دور ہو جاتی ہے۔