خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 571 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 571

خطبات طاہر جلدے 571 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء اس لیے میں قوم کے سیاستدانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ صورتحال کو سمجھیں اور اس کا صحیح علاج تجویز کریں۔یہ بھی غلط ہے کہ ہم امریکہ سے نجات پانے کے لیے عوام الناس میں امریکہ کے خلاف اشتعال انگیزی کریں اور نفرت پھیلائیں۔عالمی سیاست میں ہمارا ایک مقام ہے۔اُسے ہمیں بھولنا نہیں چاہئے اور وہ کمزوری کا مقام ہے۔عالمی سیاست میں ہم یہ اختیار نہیں رکھتے کہ ایک کو دشمن سمجھیں اور دوسرے کو دوست سمجھیں۔اگر ہم عقل سے کام لیں گے تو دونوں دوست ہو سکتے ہیں اور اگر عقل سے کام نہیں لیں گے تو دونوں دشمن ثابت ہوں گے۔عالمی سیاست پر Might is Right کا قانون ہے، طاقت کا قانون جاری ہے۔کوئی رحم و کرم کا قانون ان میں نہیں چلتا۔اس حقیقت کو سمجھ کر آپ کو اپنے لیے آئندہ راہیں معین کرنی ہے۔اس سے بہتر وقت، آج جو وقت آیا ہے یہ آپ کو کبھی بھی نصیب نہیں ہو سکتا تھا۔یہ جو باتیں ہو رہی ہیں کہ سبو تا ثر ہو گیا۔اب آرمی انٹیلی جنس اس بات کو زیادہ زور سے بیان کر رہی ہے کہ یہ دراصل آئندہ سیاست کو اختیار میں آنے سے روکنے کا ایک ذریعہ ہے ، ایک بہانہ ہے۔اگر اس بات کو آگے بڑھائیں اور امریکہ سے بھی ماہرین آکے یہ کہہ دیں کہ کہ ہاں یہ تو سبو تا ژ تھا یعنی کسی دشمن نے خفیہ طور پر بم رکھ دیا یا میزائل سے اس جہاز کو اڑا دیا تو فوج کے لیے یہ بہانہ اچھا ہے کہ ہمارے سر براہ کو تو انہوں نے مارا ہے۔چونکہ پاکستانی سیاستدانوں نے مروایا ہوگا یا غیروں کے ساتھ مل کر کیا ہوگا اس لیے ہمیں اعتبار نہیں رہا۔کئی بہانے بنائے جاسکتے ہیں۔آج اور سولہ نومبر کے درمیان ابھی کافی فاصلہ ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسلام آبادان دنوں بین الاقوامی سازشوں کا اکھاڑا بنے والا ہے۔بڑی بڑی طاقتوں کے نمائندے وہاں پہنچیں گے اور ساز باز کریں گے اور ہر طرح کوشش کی جائے گی کہ پاکستانی عوام کو اُن کی آزادی سے محروم رکھا جائے۔اس لیے بہت واضح جو بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔اس کا علاج کیا ہے اس کا جو علاج نہیں ہے وہ میں نے آپ کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔عوام الناس کو بھڑ کا کرکسی ایک بڑی طاقت کے خلاف نفرت پیدا کرنا اور بظاہر اُس سے ٹکر لینا یہ اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔آپ امریکہ سے متنبہ تو رہ سکتے یہ تو آپ بیدار مغزی کے ساتھ یقین کر سکتے ہیں کہ ہمارا دوست نہیں ہے جب تک ہمارا محتاج ہے تب تک ہمارا دوست ہے۔جہاں ہم نے غلطی کی اس کو اور اس کو ہماری احتیاج نہ رہی یہ ہمارا دوست نہیں رہے گا۔ہمیں حکمت کے ساتھ اس سے معاملہ کرنا ہوگا۔اُس وقت تک امریکہ کو دوست