خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 565 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 565

خطبات طاہر جلدے 565 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء وقت میں محمد مصطفی ﷺ کی غلامی میں آپ کا نمائندہ ہوتا ہے۔اس لیے اُس کی ڈھال سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں۔جس حد تک وہ آگے بڑھتا ہے، جس میدان میں وہ آگے بڑھنے کا فیصلہ کرتا ہے، اُس کے پیچھے پیچھے رہیں، اُس کا ساتھ دیں، اُس کے ساتھ چلیں تو انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں رہیں گے۔اب میں اس مضمون میں کچھ وسعت پیدا کرتے ہوئے پاکستان کے حالات پر کچھ تبصرہ کرنا چاہتا ہوں اور بحیثیت امام جماعت احمدیہ پاکستان کے دانشوروں اور سیاستدانوں اور صاحب اقتدار لوگوں کو مشورہ دینا چاہتا ہوں۔جب خدا تعالیٰ اپنی طرف سے ایک امامت کھڑی کرتا ہے تو اُس امامت کی نیابت میں پھر جو بھی امام بنتا ہے اُس کی بھی راہنمائی فرماتا ہے۔اس لیے یہ روشنی جو خدا تعالیٰ عطا کرتا ہے کسی کی ذات کی طرف سے نہیں ہوتی۔اُسی امامت کی برکت سے چلتی ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو روشنی ملی وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی امامت کے توسط اور توسل سے ملی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آپ کے خلفاء کو جو روشنی ملتی ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی امامت کی روشنی سے ملتی ہے۔اس لحاظ سے ہمارا فرض ہے کہ اس روشنی سے دوسروں کے اندھیرے کو دور کرنے کی کوشش کریں اور ان پر صورتحال واضح کر کے جہاں تک ممکن ہے ان کی بھلائی اُن پر ظاہر کریں اور ان کی بدی کو بھی ان پر ظاہر کر دیں تا کہ وہ آنکھیں کھول کر اقدام کرنے کے اہل ہوسکیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ جن سیاسی رہنماؤں یا دانشوروں تک میری آواز پہنچے وہ ہرگز میری اس بات کو کسی تعلمی کے طور پر نہیں لیں گے۔میں بہت ہی ایک عاجز انسان ہوں، بڑی عاجزی کے ساتھ اُن کے سامنے یہ مضمون کھول رہا ہوں اور اس میں سوائے قوم اور وطن کی بھلائی کے میرا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔یہ جو واقعہ ظاہر ہوا ہے اس میں دو پہلو ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے علی آن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمُ (البقره: ۲۱۷) بسا اوقات تم سمجھتے ہو کہ ایک بہت ہی مکروہ بات ظاہر ہوئی ہے لیکن اسی میں ایک خیر کا پہلو موجود ہوتا ہے۔ایک پہلو سے دیکھیں تو ایک قومی سانحہ ہے اور رات کی طرح بھیانک اور تاریک ہے۔پاکستان کی فوج کے چوٹی کے دماغ اس ہوائی