خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 562 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 562

خطبات طاہر جلدے 562 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء انکار کر دیا ہے اور اپنے ظلم سے باز آ گئے ہیں۔چنانچہ کھلے لفظوں میں یہ سمجھایا گیا اور پھر یہ بھی کہا گیا کہ ایک لمبے عرصے سے اُن کی طرف سے جواب نہیں آیا۔اُن کو زیادہ وقت ملنا چاہئے وہ غور کریں کیونکہ میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی طرح اُس وطن کا سر براہ جس وطن سے ہمارا تعلق ہے۔ہم میں سے اکثر جو آج اس خطبے میں موجود ہیں اُن کا اُسی وطن سے تعلق ہے وہ اس طرح خدا کی قہری بجلی کا نشان بنیں کیونکہ اگر ایسا ہو تو اس کے عواقب میں پھر اور بھی خدا تعالیٰ کی ناراضگیوں کے اظہار ہوا کرتے ہیں۔یہ بہت بڑی روک تھی میرے دل میں اس لیے میں نے ان کو خوب موقع دیا۔چنانچہ بعض اقتباسات میں سے ایک آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اُس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ جماعت احمدیہ کو شوق نہیں تھا کہ وہ خدا کی قہری تجلی کا نشانہ بن جائیں بلکہ اُن کو خوب اچھی طرح متنبہ کیا گیا اور تنبیہ کا کوئی پہلو باقی نہیں رہنے دیا گیا۔ایک خطبے میں میں نے کہا:۔جہاں تک صدر پاکستان ضیاء صاحب کا تعلق ہے ان کے متعلق ہمیں ابھی ان کو کچھ وقت دینا چاہئے ابھی ابھی انہوں نے کچھ سیاسی کارروائیاں کی ہیں اور اگر چہ وہ اسلام کے نام پر کی ہیں مگر بہر حال سیاسی کارروائیاں ہیں اور ان میں وہ مصروف بہت ہیں۔ابھی تک ان کو یہ بھی قطعی طور پر علم نہیں کہ آئندہ چند روز میں کیا واقعات رونما ہو جائیں گے۔اس لئے ہو سکتا ہے وہ تردد محسوس کرتے ہوں کہ یہ نہ ہو کہ ادھر میں چیلنج قبول کروں ادھر کچھ اور واقعہ ہو جائے۔اس لئے جب تک ان کی کرسی مضبوط نہ ہو جائے ، جب تک وہ اپنے منصوبوں پر کار بند نہ ہو جائیں اور محسوس نہ کریں کہ ہاں اب وہ اس مقام پہ پہنچ گئے ہیں جہاں جس کو چاہیں چیلنج دیں ، جس قسم کی عقوبت سے ڈرایا جائے اس کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قبول کریں۔۔۔۔ایسے شخص کا زبان سے چیلنج قبول کرنا ضروری نہیں ہوا کرتا۔اس کا اپنے ظلم و ستم میں اسی طرح جاری رہنا اس بات کا نشان ہوتا ہے کہ اس نے چیلنج کو قبول کر لیا ہے۔اس لئے اس پہلو سے بھی وقت بتائے گا کہ کس حد تک ان کو جرات ہے خدا تعالیٰ کے مقابلے کی اور انصاف کا خون کرنے کی۔“