خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 561
خطبات طاہر جلدے 561 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء کے برعکس وہ لوگ جن کے ذاتی تعلقات تھے گمشدہ مولوی سے جو شور مچارہے تھے کہ اُس کی موت کا غم ہمیں ہلاک کر رہا ہے۔جب تک ہم اُس کے خون کا بدلہ نہ لے لیں ہمیں چین نہیں آئے گا۔اُس کی زندگی کی خوشی کی خبر سنتے ہی اُن پر موت طاری ہو گئی۔ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ہر طرف سوگ کا عالم ہو، جھوٹے کی یہ پہچان ہوا کرتی ہے اور اس طرح خدا بچوں اور جھوٹوں میں امتیاز کر کے دکھا دیا کرتا ہے۔آج جنرل ضیاء الحق صاحب کی موت پر جو یہ علماء صدمے کا اظہار کر رہے ہیں یہ وہی ہیں جو کل تک اُن کو گالیاں دے رہے تھے۔اس لیے اُن کے اس رد عمل نے بتادیا کہ موت کا صدمہ نہیں ان کو اس بات کا صدمہ ہے کہ خدا کا ایک نشان احمدیت کے حق میں ظاہر ہو گیا۔اُس کی سیاہی ان کے چہروں پر پھر گئی ہے۔اس لیے جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قرآن کریم اور سنت سے تربیت یافتہ ہے اور جولوگ قرآن اور سنت سے تربیت یافتہ نہیں اُن میں اور ہمارے درمیان ایک ایسا امتیاز ہے، ایک ایسا فرق ہے جو ہر آزمائش کے وقت روشن ہو کر ظاہر ہوگا اور کبھی کوئی صاحب بصیرت اس فرق کو محسوس کئے بغیر رہ نہیں سکتا۔چنانچہ ان دونوں واقعات پر آپ جماعت احمدیہ کا رد عمل بھی دیکھ لیجئے اور جماعت احمدیہ کے مخالفین کا رد عمل بھی دیکھ لیجئے۔تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم سچے ہیں ، ہمارا ظاہر بھی سچا ہے ، ہمارا باطن بھی سچا ہے اور ہم خدا تعالیٰ کے چہرے کی رضا کی طرف دیکھتے ہیں اور وہی ہماری خوشیوں کا موجب ہے۔اگر وہ رضا ہمیں نصیب نہ رہے تو ہمارے لیے موت کا دن ہوگا اور خدا کرے کہ ہم ہمیشہ خدا کی رضا کی زندگی کے ساتھ زندہ رہیں ( آمین )۔اس ضمن میں میں ایک بات یہ بھی خوب اچھی طرح آپ پر کھول دینا چاہتا ہوں کہ اس واقعہ کا جو پس منظر ہے اُس سے بھی جماعت احمدیہ کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔ہمیں ہر گز شوق نہیں تھا کہ جنرل ضیاء الحق صاحب خدا کی قہری تجلی کا نشانہ بنیں۔چنانچہ مسلسل بار بار خوب کھلے لفظوں میں ان کو تنبیہ کی گئی بلکہ میں نے تو نجات کے رستے بھی بتائے کہ اچھا اگر آپ کو کوئی دل میں خدا کا خوف ہو اور شرم کے مارے اپنی وجاہت اور دنیا کے مرتبے کی خاطر جو حیا ہے وہ مانع ہو جائے۔تو آپ یہ طریق اختیار کریں بچنے کا کہ ظلم و ستم سے ہاتھ روک لیں بس ، خاموشی اختیار کر لیں۔ہم یہ سمجھیں گے اور ہماری دعا ہے کہ خدا کی تقدیر بھی اسی طرح آپ سے سلوک کرے کہ آپ نے چیلنج قبول کرنے سے