خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 551 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 551

خطبات طاہر جلدے 551 خطبه جمعه ۱۲ را گست ۱۹۸۸ء تقدیر بن گئی جسے ٹالا نہیں جاسکتا۔فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ پس خوب زمین میں پھر کے سیاحت کر کے دیکھو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہے یا کیا انجام تھا۔پھر سورہ طور میں آیات ۱۲ اور ۱۳ میں بیان فرمایا فَوَيْلٌ يَوْمَذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ) پر آج کے دن ہلاکت ہے سب جھٹلانے والوں کے لیے الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ (الطور (۱۳) ۱۳) وہ جو اپنی سرکشی اور گمراہی میں بھٹک رہے ہیں۔اس مضمون کو بیان کرنے کے لیے آج میری توجہ ایک رؤیا کے ذریعہ مبذول کراوئی گئی ہے۔رات میں نے رویا میں دیکھا کہ کچھ انگریز احمدی بیٹھے ہوئے ہیں اور ان میں سے ایک مجھ سے سوال کرتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی تحریر کا جو آپ نے ترجمہ کیا ہے وہ مجھے درست معلوم نہیں ہوتا اور وہ ترجمہ یہ بیان کرتا ہے۔انگریزی کا ایک محاورہ ہے History repeats itself کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔اُس ترجمے میں اس محاورے کا پہلا حصہ استعمال کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے دوسرا نتیجہ نکالا ہوا ہے۔اردو میں بھی یہی ہے اور ترجمہ میں بھی یہی ہے کہ ( اُن کے الفاظ اس قسم کے ہیں ) تاریخ اپنے آپ کو ضرور دہراتی ہے اور خدا تعالیٰ مجرموں کو ضرور سزا دیتا ہے۔چنانچہ اس کا خواب میں مجھ پر یہ اثر ہے کہ میں نے ترجمہ کیا ہے کہ History repeats itself اور آگے مجھے یاد نہیں کہ الفاظ کیا تھے لیکن Punishment کے لفظ تھے یا کوئی اور لفظ تھے لیکن مضمون یہی تھا۔اس لیے چونکہ خواب کے انگریزی الفاظ یاد نہیں میں اس کو چھوڑتا ہوں لیکن بعینہ اس مضمون کو میں نے انگریزی میں بیان کیا یعنی اُس کے نزدیک میری تحریر میں یہ بات تھی۔وہ کہتا تھا History repeats کا یہ مطلب تو نہیں ہے۔یعنی اعتراض یہ تھا کہ تم نے History repeats کا دوسرا معنی کر دیا ہے حالانکہ اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے۔کچھ دوسرے انگریز احمدی ہیں وہ میری تائید میں بولتے ہیں۔وہ کہتے ہیں نہیں بالکل صحیح ہے، اس موقع پر یہی محاورہ استعمال ہونا چاہئے تھا۔پھر میں اُس کو سمجھاتا ہوں اور میں اُسے کہتا ہوں دیکھو تم لوگوں کا جو دنیاوی محاورہ ہے وہ در حقیقت ایک سطحی بات تھی۔اس میں فی الحقیقت کوئی بھی ٹھوس مضمون بیان نہیں ہوا بلکہ اس کے نتیجے میں ابہام پیدا کر دیا گیا ہے۔بہت سے لوگ اس محاورہ کو سنتے ہیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ گویا تاریخ بعینہ دوبارہ اپنے آپ کو دہراتی چلی جاتی ہے کوئی نئے نقوش دنیا