خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 543
خطبات طاہر جلدے 543 خطبه جمعه ۵راگست ۱۹۸۸ء جب مجھے اطلاع ملی تھی اُس وقت بھی دل سے ایک لعنت نکلی تھی۔اس لیے میں نہیں جانتا کہ انہوں نے کھلم کھلا مباہلے کا چیلنج قبول کیا تھا یا نہیں کیا لیکن اس بات میں شک نہیں کہ چونکہ انہوں نے احمدیوں کے قتل کا فتوی دیا تھا۔اس لیے مباہلے کے چیلنج کے بعد ان کا مرجانا خود یہ بھی ایک نشان ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے اور بھی اس قسم کی خبریں اکٹھی ہو رہی ہیں لیکن انشاء اللہ اُن کی پوری چھان بین کی جائے گی تو اور بھی کئی امور ظاہر ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب مباہلے کا چیلنج دیا تھا تو بعض علماء مرے لیکن ان کے متعلق یہ باتیں بعد میں پتا چلیں کہ اُس وقت موت آئی جب وہ اپنے ہاتھ سے مباہلے کے پہینچ کی منظوری کو لکھ کر اُس پر دستخط کر رہے تھے۔تو اس قسم کی باتیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر بعد میں کھولے گی لیکن یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ خدا کی چکی حرکت میں آچکی ہے اور جب خدا کی تقدیر کی چکی حرکت میں آجائے تو کوئی نہیں جو اس کو روک سکے اور کوئی دنیا کی طاقت نہیں ہے کہ جب خدا چاہے کہ کوئی اُس چکی میں پیسا جائے تو اُس چکی کے عذاب سے بچا سکے۔اس لئے استغفار کا وقت ہے، دعاؤں کا وقت ہے، ابتہال کا وقت ہے اور ہمیشہ خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہوئے اپنے گناہوں کی بھی بخشش مانگیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے قوم کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اکثریت کو ہدایت دے اور اپنے عذاب سے بچائے۔نماز جمعہ کے بعد کچھ نماز جنازہ غائب ہوں گے۔دو جنازے تو ایسے ہیں جو پہلے کے ہیں لیکن چونکہ میں نے نماز جنازہ غائب پڑھنے سے حتی المقدور احتراز کرنے کا اعلان کیا تھا اور وضاحت کر دی تھی کہ کیوں ایسا کیا گیا ہے۔اس لئے باوجود اس کے کہ ان کے متعلق میرے نزدیک وجوہات تھیں کہ ان کا نماز جنازہ غائب پڑھا جائے۔میں انتظار کرتا رہا کہ بعد میں جب دو تین ایسے مواقع اکٹھے ہو جائیں تو پھر اکٹھی نماز جنازہ ادا کی جائے۔ایک اُن میں سے ہماری آپا سیدہ بیگم جو ملک عمر علی صاحب مرحوم ملتان کی بیوہ تھیں اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی صاحبزادی تھیں یہ کچھ عرصہ پہلے وفات پا چکی ہیں۔اسی طرح ڈاکٹر حسین ساجد صاحب امریکہ کے مجھ سے ، بہت پہلے جب بیمار ہوئے تھے تو وعدہ لے چکے تھے کہ میرا نماز جنازہ آپ پڑھائیں گے۔وعدہ ان معنوں میں کہ یہ درخواست کر چکے تھے اور میں نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا۔تو وہ بہت لمبا عرصہ بہت ہی شدید