خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 534
خطبات طاہر جلدے 534 خطبه جمعه ۵/اگست ۱۹۸۸ء دینا تو حرام اور قبول کرنا حرام نہیں۔چیلنج دینے کے نتیجے میں کسی اور کا چیلنج کسی اور تک پہچانے کے نتیجے میں قید کیا جا سکتا ہے انسان اور اُس پر کئی قسم کے مقدمات قائم کیے جاسکتے ہیں؟ لیکن جو اُسے قبول کر لے دنیا میں اور خود اُسے مشتعل کرے دنیا میں اُس کے اوپر کوئی سزا نہیں۔وہاں نہ کوئی انصاف کا تصور ہے، نہ ابتہال کا کوئی تصور ہے۔قرآنی تعلیم سے معلوم ہوتا ہے یہ ملک اور اس ملک کے علماء بالکل بے بہرہ ہو چکے ہیں اور اب مباہلہ قبول کرنے کے متعلق سنئے۔بعض اہل سنت علماء کا یہ موقف ہے کہ غیر مسلم سے مباہلہ نہیں ہوسکتا یعنی ان معنوں میں کہ وہ کہتے ہیں کہ غیر مسلم کو حق نہیں ہے کہ مباہلے کا چیلنج دے۔اس لیے چونکہ ہم اُن کو غیر مسلم سمجھتے ہیں اس لیے ہم اُن کا مباہلے کا چیلنج قبول نہیں کر سکتے۔بعض یہ کہتے ہیں کہ مباہلے کا چیلنج ہم اس لیے قبول نہیں کر سکتے کہ قرآن کریم سے نص صریح سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔تو چونکہ ختم نبوت کا ہمارا عقیدہ قرآن کی نص صریح سے ثابت شدہ ہے۔اس لیے اس پر مباہلہ نہیں ہو سکتا۔اب جہالت کی حد ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی صداقت سے بڑھ کر خاتمیت ثابت ہے۔قرآن کریم نے تو مباہلے کا چیلنج ہی اس بات پر دیا تھا کہ حضرت محمد مصطفی احیا ایہ بچے ہیں یا مخالف سچا ہے اور وہ ان کے نزدیک نص صریح سے ثابت نہیں تھا۔نعوذ بالــلــه مــن ذالک۔اس لیے آنحضرت ﷺ کو اجازت تھی کہ وہ چیلنج دے دیں۔کیونکہ آپ کی صداقت خدانخواستہ نعوذ بالله من ذالک چونکہ مہم تھی اس لیے مباہلے کے لئے گویا اُس کی وضاحت چاہی گئی تھی۔کچھ ان کو نہ اسلامی تاریخ کا پتا ہے، نہ سنت کا، نہ قرآن کے مفہوم کا اور مباہلے کے مضمون ک او پر زبانیں کھول رہے ہیں اور ہر جوابی کارروائی میں بیہودہ زبان استعمال کر رہے ہیں۔راہ فرار خود اختیار کرتے ہیں اور الزام ہم پر ڈالتے ہیں۔الله پھر بعض علماء نے اس بات کا اظہار کیا ہے انگلستان میں ہی مثلاً وہ کہتے ہیں کہ مباہلے کا چیلنج منظور ہے۔آپ بھی اپنے بیوی بچوں کو لے کے آجائیں ہم بھی آجاتے ہیں اور پھر ہم دریائے ٹیمز میں چھلانگ لگا ئیں گے اور جو پار اتر جائے گا وہ سچا اور جو ڈوب جائے گا وہ جھوٹا۔یعنی مباہلے کا چیلنج ان کے نزدیک یہ حیثیت رکھتا ہے۔اگر یہ واقعی سچے ہیں مباہلہ اسی کو کہتے ہیں تو آج کل یہاں ایک بمبئی سے ہندو بچی آئی ہوئی ہے چودہ سال کی۔جو برٹش چینل کو تیر کے پار کر چکی ہے پہلے بھی