خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 532 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 532

خطبات طاہر جلدے 532 خطبه جمعه ۵/اگست ۱۹۸۸ء لیے انہوں نے معذرت کی اور اُس کے جواب میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے بھی یہ فرمایا کہ اگر وہ مباہلہ قبول کر لیتے تو وہ سارا علاقہ جس میں وہ بستے تھے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے صفہ ہستی سے مٹا دیا جاتا اور اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ فرشتے نے آکر مجھے بتایا ہے اگر وہ ایسا کرتے تو اُن کا نام ونشان تک تاریخ میں باقی نہ رہتا۔(السیرۃ الحلبیہ جلد ۳ صفحہ: ۲۹۹) پس معلوم ہوا کہ محض جھوٹا ہونا کافی نہیں۔اگر جھوٹے آدمی کے دل میں بھی خدا کا خوف ہو اور خدا کے خوف کی وجہ سے وہ ڈر کر بھاگنا چاہے تو اللہ تعالیٰ کی لعنت کی تقدیر اس کا پیچھا نہیں کرتی اور اُس کے معاملے کو دوسری دنیا پر چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن افسوس ہے کہ جن معاندین اور مخالفین سے ہمیں واسطہ ہے وہ ایک طرف تعلی کی رو سے دنیا پر یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے مباہلہ کی دعوت منظور کر لی ہے بلکہ بڑے بڑے واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے منظور کر لی ہے۔اب مخالف فریق بھاگے گا تو ہم اُس کا تعاقب کریں گے، ہم دنیا کو بتا ئیں گے کہ دیکھو وہ فرار ہو گیا اور ہر عالم کی بات کی تان گویا اس بات پر ٹوٹ رہی ہے کہ انہوں نے تو مباہلہ منظور کر لیا لیکن مرزا طاہر احمد اور جماعت احمد یہ اس مباہلے کے چیلنج سے اب بھاگ جائے گی حالانکہ ہم نے تو چینج دے دیا۔ہم تو بار بار خدا کی عدالت میں اس معاملے کو لے جا کر قرآن کے الفاظ میں لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ (آل عمران : ۶۲ ) کا اعلان کر چکے ہیں۔زبانی بھی اور تحریراً بھی اور کثرت سے اس مضمون کو شائع کیا جا چکا ہے۔اس کے بعد اُن کا یہ کہنا کہ وہ بھاگ گیا کیسی لغو اور بے معنی بات ہے۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ اُن کو مباہلے کے مضمون سے ہی کوئی واقفیت نہیں ہے۔چنانچہ مختلف قسم کے جو تبصرے شائع ہوتے رہے ہیں۔اُن میں سے بعض نے یہ کہا ہے کہ تم فلاں میدان میں پہنچو ، کوئی کہتا ہے فلاں میدان میں پہنچو، کوئی کہتا ہے مسجد نبوی میں داخل ہو کے مباہلہ کرو اور مسجد نبوی کے متعلق پھر خود ہی فتویٰ دیتا ہے کہ بعض کے نزدیک کافر کو وہاں آنے کی اجازت نہیں ہے لیکن بعض فقہاء نے بعض مجبوریوں کی خاطر کافروں کو اندر آنے کی اجازت دے دی ہے۔اس لیے ان فقہاء کی پیروی میں اُن مجبوریوں کے تابع گویا مرزا طاہر احمد اور اُس کی جماعت کو بھی داخل ہونے کی اجازت ہو جائے گی۔ایسی ایسی لغو باتیں بار بار یہ سمجھانے کے باوجود کہ مباہلے میں کسی میدان کا کوئی ذکر نہیں کسی مقام کا کوئی ذکر نہیں ہے، صرف قرآن کریم یہ بیان