خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 531
خطبات طاہر جلدے 531 خطبه جمعه ۵راگست ۱۹۸۸ء مباہلے کے نشانات کا آغاز اور دعا کی تحریک ( خطبه جمعه فرموده ۵/اگست ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: گزشتہ کچھ عرصے سے مباہلے کے مضمون کی گرم بازاری ہے۔ہر طرف اس کا چرچا اور اسی کی باتیں ہو رہی ہیں اور دنیا بھر کے مختلف معاند علماء کی طرف سے اس سلسلے میں کئی قسم کے تبصرے شائع ہو چکے ہیں، کئی قسم کی تعلی کی باتیں وہ کہہ رہے ہیں اور اپنے اپنے رنگ میں یہ اعلان بھی کر رہے ہیں کہ انہوں نے مباہلے کا چیلنج قبول کر لیا ہے لیکن جب آپ اُن کے بیانات کا جائزہ لیتے ہیں تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر چہ عنوان یہ لگایا گیا ہے کہ مباہلہ منظور لیکن بیان میں فرار کے رستے کھول دیئے جاتے ہیں اور ایسی عبارتیں داخل کر دی جاتی ہیں جن کی راہ سے وہ بعد میں یہ کہہ سکیں کہ ہم نے مباہلہ منظور تو کیا تھا مگر اس شرط کے ساتھ کیا تھا اور چونکہ یہ شرط موجود نہیں اس لیے مباہلہ بھی وہ مباہلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگر تو مباہلہ سے فرار خوف خدا کی وجہ سے ہو تو اس میں کوئی شک نہیں کہ خوف خدا ایک ایسی چیز ہے جس پر اللہ تعالیٰ رحم کی نظر ڈالتا ہے۔جب حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے نجران کے وفد کو مباہلہ کا چیلنج دیا تو انہوں نے بھی فرار کی راہ اختیار کی لیکن اُن میں تقویٰ کا معیار آج کل کے بعض علماء کے مقابلے پر بہت اونچا تھا۔چنانچہ انہوں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا، کوئی بہانہ نہیں تراشا بلکہ صاف کہہ دیا کہ ہم آپ سے مباہلہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کے خوف سے مرعوب ہو گئے تھے اور اُن کو یہ ڈر تھا کہ ہمارا مقابل سچا ہے اور اس کی لعنت کی دعا ہم پر لازما پڑ جائے گی۔اس