خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 529 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 529

خطبات طاہر جلدے 529 خطبہ جمعہ ۲۹ جولائی ۱۹۸۸ء گریہ وزاری پیدا ہوتی ہے اور ایک ایسی فضا دل میں پیدا ہو جاتی ہے جو برسا کرتی ہے۔ اس لیے اس کے ساتھ آنسوؤں کا تعلق ہے، اس کے ساتھ گریہ وزاری کا تعلق ہے۔ اس مضمون کو سمجھتے ہوئے جماعت کو اب اس میں مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔ جس طرح بھی پیش جائے ، جس طرح بھی اپنے دل کو نرم کر سکتے ہیں۔ خدا کے حضور گریہ وزاری کریں اور جب بھی دل میں کوئی درد پیدا ہو ۔ اُس کو اس درد میں تبدیل کر دیا کریں۔ پھر آپ کا مقابلہ ایک ایسے دشمن سے ہوگا جو ابتھال کی بجائے بے حیائی کو اپنا مباہلہ سمجھ رہا ہے۔ جو گندا چھالنے کو مباہلہ سمجھ رہا ہے اُن میں سے کسی کو کوئی دعا کی طرف توجہ نہیں ۔ اوّل تو اُن کا جھوٹا ہونا اسی سے ثابت ہو جاتا ہے۔ سارے اعلان آپ اُن کے پڑھ کر دیکھ لیں ۔ اُن کی شیخیاں اُن کے تکبر کی باتیں دیکھیں کہیں ادنی بھی عجز اور انکسار کا کوئی پہلو آپ کو دکھائی نہیں دے گا ۔ خدا سے دعا کا کوئی لفظ ہی نہیں اُٹھنے دے گا۔ اب ایک طرف جماعت احمد یہ ہوگی جو خدا کے حضور بچھ رہی ہوگی، گریہ وزاری کر رہی ہوگی ، دعائیں کر رہی ہوگی ، سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تدلل اختیار کر رہی ہو گی تو پھر دیکھیں خدا کی تقدیر کیسے کیسے عظیم نشان دکھاتی ہے۔ اس لیے اگلی صدی سے پہلے خدا سے نشان کے مطالبے کریں تاکہ خدا تعالیٰ کے جلال اور جمال کے جلووں کے ساتھ آپ اگلی صدی میں داخل ہوں اور اس شان کے ساتھ خدا کاف خدا کا فضل ! اور رحمتیں اور اُس کے پیار کے اور قرب کے نظارے آپ دیکھیں اور دنیا کو دکھا ئیں کہ یہ صدی فیصلہ کن ثابت ہو، پھر ہم اگلی صدی میں داخل ہوں اور پھر اُن قوموں اور اُن ملکوں کی طرف متوجہ ہوں جن کی فتح کے لیے از سر نو بے حد کام کرنے والے ہیں ۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اس خطبہ جمعہ میں ان دونوں امور کی طرف آپ کو متوجہ کروں۔ جلسہ سالانہ کی برکتوں کو دوام بخشنے کی کوشش کریں اور جس حد تک برکتیں جاری کر سکتے ہیں اپنے اندر ، اپنی اولاد میں اُن کو جاری رکھیں اور مباہلے کو ایک عظیم الشان نشان بنانے کے لیے جس انتہال کی ضرورت ہے۔ اس انتہال کو اپنا لیں اور خدا کے حضور گریہ وزاری کریں تا کہ ہم آئندہ سال میں ایک عظیم الشان فتح کی صدی کا شکر ادا کرتے ہوئے داخل ہو رہے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ ( آمین )