خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 528 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 528

خطبات طاہر جلدے 528 خطبہ جمعہ ۲۹ جولائی ۱۹۸۸ء ابتہال کریں۔ابتہال کا لفظ اور مباہلے کا لفظ دونوں ہی لفظ بھل سے نکلے ہیں اور بھل کے مختلف معنے ہیں جن میں سے بعض اس موقع پر صادق آتے ہیں۔بھل کسی اونٹنی کے آزاد ہو جانے کو بھی کہتے ہیں۔جب اُس کے گھٹنے کی رسیاں کاٹ دی جائیں اور گھلا چھوڑ دیا جائے۔اسی طرح بھل میں دوسرے ایسے جانور بھی شامل ہو جاتے ہیں جن کے اوپر کوئی پابندی نہ کی جائے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔اس مضمون سے آگے ایک لفظ نکلا ہے باھل یا باھلہ۔ایسی عورت جو اپنے آپ کو کسی کے حضور پیش کر دے اور کہے کہ میرا کچھ بھی اپنا نہیں رہا۔میری ہر چیز جان ، مال، عزت سب کچھ تیرا ہو گیا ہے۔اُس کو عربی زبان میں باھلہ کہتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے بھال تین حروف سے ملا کر جو مضمون اُٹھایا گیا ہے اُس میں ایک یہ معنی ہیں کہ خدا کے حضور اپنے آپ کو پیش کر دیتے ہیں۔یہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارا سب کچھ اب تیرے سپرد ہے کچھ بھی اپنا باقی نہیں رہا۔اپنے خاندان جان، مال، عزتیں ، نفوس ، بڑے چھوٹے ، مرد عورتیں جو کچھ ہے ہم تیرے دربار میں یہ کہہ کر حاضر کر دیتے ہیں کہ اگر ہم جھوٹے ہیں تو ہمارا سب کچھ برباد کر دے، ہم پر لعنتیں ڈال اور اگر ہم بچے ہیں تو وہ دشمن جس نے یہی معاملہ تیرے ساتھ کیا ہے اُس کے اوپر اپنا قہر نازل فرما اور ظاہر کر دے کہ تو ہمارے ساتھ ہے ہمارا سب کچھ لے کر تو نے اُس کی حفاظت فرمائی۔ہماری عزتیں لیں مگر ہمیں مزید عزتیں بخشنے کے لیے، ہمارے نفوس لئے ہیں مگر اُن میں مزید برکتیں ڈالنے کے لیے ، ہمارے اموال لئے لیکن کم کرنے کے لیے نہیں بڑھانے کے لیے۔پس یہ ہے معنی نبتھل کا اور اس میں گریہ وزاری اور عاجزی کا مضمون بھی پایا جاتا ہے۔چنانچہ اصطلاحی معنوں میں جب بحث ملتی ہے لغات میں تو کہتے ہیں نبتل کا معنی ہے بہت گریہ وزاری کے ساتھ ، عاجزی کے ساتھ دعائیں کرنا۔دراصل جب انسان اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتا ہے تو اُس کے نتیجے میں گریہ وزاری خود بخود پیدا ہوتی ہے اور وہ جو اس فیصلے میں مخلص ہو اُس کے دل میں ضرور درد پیدا ہوتا ہے۔ویسے تو سب کچھ خدا ہی کا ہے اُس کے قبضہ قدرت میں ہے لیکن ایک لمحے میں انسان یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ میں سب کچھ کلیۂ اُس کے حضور اس دعا کے ساتھ حاضر کر رہا ہوں کہ اگر تیرے نزدیک ہم جھوٹے ہیں تو ہم پر لعنت ڈال اور سب کچھ ہلاک کر دے۔بہت بڑا فیصلہ ہے اور بہت گہرے دل کو ٹو لنے کے بعد اور اپنے نفس کا تجزیہ کرنے کے بعد انسان یہ فیصلہ کر سکتا ہے۔اس لیے اس فیصلے کے ساتھ ہی دل میں ایک درداُٹھتا ہے، دل میں