خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 527
خطبات طاہر جلدے 527 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۸۸ء مولوی صاحبان جو ہمارے جواب میں اشتہار بازی کر رہے ہیں اور اخباروں میں بھی بعض اعلان کروا رہے ہیں۔معلوم ہوتا ہے اُن کو مباہلے کا کوئی بھی علم نہیں کہ یہ کیا چیز ہے۔مباہلہ تو ایسے وقت کیا جاتا ہے جب کہ حجتوں کا وقت نہ رہا ہو اور فریق ثانی کے ظلم سے تنگ آکر خدا کے دربار کی طرف رجوع کیا جائے۔اس بات کو وہ نہیں سمجھتے وہ سمجھتے ہیں یہ بھی مناظرے کی قسم ہے۔چنانچہ مناظرے میں جس طرح پہلے وہ دجل اور فریب سے کام لیتے تھے اور دھو کے دیتے تھے اور جھوٹ پر جھوٹ بولتے تھے۔وہ سمجھتے ہیں اب بھی جھوٹ بول کر اور دھوکا دے کر فریب دے کر ہم اس میں بازی جیت جائیں گے حالانکہ وہاں عوام الناس کی عدالت میں فیصلے ہوا کرتے تھے۔مناظرے اور مباہلے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔مناظرے زمین کے فیصلوں کی بات ہے اور مباہلے آسمان کے فیصلوں کی بات ہے۔اس فرق کو وہ نہیں جانتے چونکہ خود زمینی فطرت رکھتے ہیں اس لیے دوبارہ بات کو زمین کی طرف گھسیٹ رہے ہیں اور بے خوفی دکھا رہے ہیں۔چنانچہ بعض جواب دینے والوں نے پھر وہی گند اُچھالا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر، جماعت کی ذات پر، ہر قسم کے گند اچھال کر وہ سمجھتے ہیں کہ ہم عوام الناس پہ یہ ثابت کر دیں گے کہ ہم غالب ہیں، ہمیں کوئی خوف نہیں۔حالانکہ عوام الناس کی تو بحث ہی نہیں ہو رہی وہ تو تماشائی ہیں۔فیصلہ تو خدا نے کرنا ہے اور آسمان پہ کرنا ہے اور ایسا فیصلہ کرنا ہے جس کے اثرات ضرور زمین پر نازل ہوں گے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ زمین والے اُن اثرات کے نمونے نہ دیکھیں۔اس لیے جب اس قسم کی بے ہودہ بے خوفی کرتے ہیں تو اُن کے اوپر مجھے خوف آتا ہے اور اُن کے لیے دل ڈرتا ہے کہ بڑے بے باک لوگ ہیں۔خدا سے ٹکر لینے کے لیے کیسے چالاکیاں کر رہے ہیں کہ ٹکر بھی لے لیں اور بظاہر بیچ بھی جائیں چالا کیوں کے نتیجے میں لیکن یہ چالاکیاں خدا کے دربار میں کام نہیں آیا کرتیں۔اب میں جماعت کو بتا تا ہوں کہ ابتہال کے معنی کیا ہیں۔عموماً تو آپ جانتے ہیں لعنت ڈالنا لیکن لفظ ابتہال کو کیوں چنا گیا۔لفظ مباہلہ دراصل ایک اور بات سے تعلق رکھتا ہے اور قرآن کریم نے جو لفظ استعمال فرمایا ہے وہ ابتہال ہے۔ابتہال باب افتعال سے لیا گیا اور مباہلہ باب مفاعلہ سے ہے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنا چونکہ مقابلے کا مضمون اس میں شامل تھا اس لیے بعد ازاں محاورۃ اس مقابلے کو مباہلہ کہہ دیا گیا۔ورنہ در اصل قرآن کریم میں ثُمَّ نَبْتَهِلْ فرمایا ہے پھر ہم