خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 523
خطبات طاہر جلدے 523 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۸۸ء جماعتوں نے ابھی تک وہ بجٹ ہی نہیں بھجوائے۔اس لیے جب اُن کے پاس ابھی خرچ کرنے کے لیے پیسہ ہی نہیں ہے تو منصوبوں پر عمل کیسے ہو سکتا ہے، کیسے ہوا ہو گا اور وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے کیونکہ جولوگ کام کا تجربہ رکھتے ہیں اُن کو پتا ہے کہ کام وقت لیتے ہیں ، بہت محنت لیتے ہیں اور اہم کام خصوصیت سے جس نے سب دنیا کے سامنے جماعت کی کارگزاری پیش کرنی ہے۔اُس میں جو احتیاطیں انسان کو برتنی چاہئیں ، جن احتیاطوں سے کام لینا چاہئے اُس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کام کو بہت زیادہ ضرورت سے زیادہ تیزی کے ساتھ نہ کیا جائے بلکہ ہر کام کو سلیقے سے سوچ کر کیا جائے۔اُس کا پھر جائزہ لیا جائے، پھر جائزہ لیا جائے اور پوری احتیاط کے ساتھ اس منصوبے پر عمل درآمد ہو اور احتیاط وقت طلب ہوا کرتی ہے۔اس لیے مجھے یہ ڈر ہے کہ بعض جماعتوں میں اس پہلو سے سستی ہوئی ہے اور وہ پیچھے رہ گئے ہیں اور پاکستان میں بھی جس جس علاقے میں علاقائی تیاری ہونے والی ہے اُس میں ابھی بہت کام پڑا ہوا ہے۔چونکہ جماعت مخالفت کی وجہ سے اور شدید ابتلاء کے دور میں سے گزرنے کی وجہ سے اپنے دفاع میں الجھی رہی ہے۔اس لیے ایک تو یہ وجہ بھی ہے کہ یکسوئی حاصل نہیں ہوئی، دلجمعی کے ساتھ منصوبے کی طرف توجہ نہیں دے سکے۔کچھ گومگو کی بھی کیفیت ہے، بے یقینی کی حالت ان معنوں میں کہ پاکستان کی جماعت میں بہت سے دوست ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ جلسہ کہاں ہوگا۔چنانچہ کچھ تو انتظار کر رہے ہیں حالات میں ایسی دفعہ تبدیلی واقع ہو کہ ہمارا صد ساله سال تشکر کا جلسہ ربوہ میں ہو اور کچھ ہیں جو حالات کے اندازے کر کے یہ سوچ رہے ہیں کہ ابھی تک کوئی ایسے آثار ظاہر نہیں ہوئے۔اس لیے ممکن ہے ہمیں باہر جانا پڑے۔چنانچہ کوئی باہر جانے کی تیاری میں بیٹھے ہیں اور مقامی کاموں میں دلچسپیاں نہیں لے رہے۔کچھ مقامی جلسے میں اس لیے دلچسپی نہیں لے رہے کہ ربوہ میں جلسہ ہو گا اصل تو وہی ہے اور سارے ملک کا نمائندہ جلسہ و ہیں ہوگا اور وہیں ساری تیاریاں ہوں گی۔حالانکہ اس بات کو میں نے دو سال پہلے ہی خوب اچھی طرح منتظمین پہ کھول دیا تھا کہ ہم نے ہر امکان کو پیش نظر رکھ کر تیار رہنا ہے۔جب ہم کہتے ہیں اور بڑے خلوص کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ اے خدا ! ہمارا سب کچھ تیرا ہے، تیرے حضور حاضر ہیں، تیری رضا پر راضی ہیں ، تو جب رضا کا علم نہ ہو تو رضا جس طرح بھی ظاہر ہو سکتی ہو اُس طرح تیار رہنا چاہئے۔خدا کی رضا کو اپنی رضا کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔اگر اپنی رضا کے ایک پہلوکو آپ اختیار کر کے