خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 518
خطبات طاہر جلدے 518 خطبہ جمعہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء بیماریوں سے بے پرواہ ہوں اپنے احساس کو زندہ رکھیں اور اس دکھ کو زندہ رکھیں جو برائیوں کو دیکھنے کے نتیجہ میں ایک مؤمن کے دل میں لازماً پیدا ہوتا ہے۔ بارہا میں نے جماعت کو پہلے بھی متوجہ کیا ہے کہ سارے قرآن کریم میں حضرت اقدس محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق ایک بھی اشارہ نہیں ملتا کہ بدی کو دیکھ کر آپ غصے میں آجاتے تھے۔ ہاں بدی کو دیکھ کر آپ بے حد رنجیدہ ہو جاتے تھے، بے حد دکھ محسوس کرتے تھے۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کو بار بار آپ کو متوجہ فرمانا پڑا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:۳) اے محمد ! ان ظالموں کے لئے تو کیوں اپنے نفس کو ہلاک کرتا ہے کیا تو اپنے آپ کو ہلاک کرے گا غم سے کہ یہ مؤمن نہیں ہو ہوتے۔ کہیں بھی حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غضب ناک ہونے کا ذکر نہیں ملتا لیکن بے انتہاء دردناک ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ پس آپ بھی اپنی نسلوں کو کبھی نمازوں پر قائم نہیں کر سکیں گے جب تک آپ ان کے لئے درد محسوس نہ کریں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے درد دعا بن جایا کرتا ہے اور وہی دعا ہے جو درد ہو اس کے سوا کوئی دعا نہیں ہے۔ وہی دعا مقبول ہوتی ہے جس کے ساتھ دل پگھلا ہوا ہو۔ پس دیکھیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت حسنہ پر غور کرنے سے کیسے کیسے زندگی کے راز ہمیں ملتے ہیں ۔ ایک انسانی زندگی کے نہیں، ایک قومی زندگی کے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے تمام انسانوں کی زندگی کے راز سیرت نبوی میں مضمر ہیں اور اُسی سے ہمیں سیکھنے ہوں گے۔ پس اپنی اولاد کو نمازوں کی طرف اس طرح متوجہ کریں اور پھر رفتہ رفتہ آگے بڑھیں ۔ اُن سے نمازیں سنیں اگر ٹھیک نماز نہیں آتی تو ان کو سکھانا شروع کریں اور اس وقت آپ میں سے بہت سے ایسے بھی نکلیں گے جنہیں احساس پیدا ہو گا کہ خود ان کو بھی نماز صحیح نہیں آتی ۔ جب ترجمہ سکھانے کا وقت آئے گا تو آپ میں سے بہت سے ایسے بھی ہوں گے جن کو خود نماز کا ترجمہ نہیں آتا ہوگا۔ جب یہ بتانے کا وقت آئے گا کہ جو کچھ پڑھتے ہو دل لگا کر پڑھنے کی کوشش کرو تو بہت سے ایسے بھی ہوں گے جن کو یاد آئے گا کہ وہ خود بھی تو دل لگا کر نہیں پڑھتے ۔ تو یہ تربیت ایسی ہو گی جو دوطرفہ ہو گی ۔ آپ اپنی اولاد کو زندگی کا پانی عطا کر رہے ہوں گے اور آپ کی اولاد آپ کو زندگی کا پانی عطا کر رہی ہوگی۔ یہ مضمون ایسا ہے کہ میں کبھی اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے تھک نہیں سکتا۔ ایک ایسی آگ لگی ہوئی ہے میرے دل میں اس معاملے میں درد اور غم کی کہ بہت سے آپ میں سے اس کا تصور نہیں