خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 512
خطبات طاہر جلدے 512 خطبہ جمعہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء کھنڈرات کو از سرنو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے بلند کرنا شروع کیا تو اس وقت قیامت تک آنے والی اپنی نسلوں کے لئے بھی دعائیں مانگیں۔پس حقیقت یہ ہے کہ تربیت کا آغاز صرف بچے کے بڑے ہونے کے وقت کا منتظر نہیں ہوتا بلکہ اس کی پیدائش کے ساتھ ، اس کی پیدائش سے پہلے بلکہ اس سے بھی بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے یعنی آپ صرف اپنی اولاد کے لئے دعا نہ کریں بلکہ اپنی اولاد در اولا د اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی دعا کریں۔ان باتوں پر غور کرتے ہوئے میری توجہ پھر اس بات پر آ کر ٹھہر گئی کہ ہر بات کا مرکزی نقطہ تو دعا بنتی ہے دعا کے بغیر کسی کوشش کو پھل نہیں لگتا۔دعا کے بغیر کوئی محنت ثمر دار ثابت نہیں ہوتی۔پس وہ ماں باپ جو اپنی اولاد کی تربیت میں دعا سے کام نہیں لیتے وہ جتنی محنت کریں حقیقت یہ ہے کہ ان کی محنت کو پھل نہیں لگ سکتا۔اگر دعا کے پانی کے بغیر خشک محنت کریں گے تو یاد رکھیں کہ وہ خشک نمازی پیدا کر دیں گے لیکن حقیقی عبادت کرنے والے پیدا نہیں کر سکتے اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے جب میں نے اپنے تجربے پر نظر ڈالی تو اُس وقت مجھے سمجھ آئی کہ کیوں بعض سخت گیر ماں باپ کی اولا د نماز پر تو قائم ہوئی لیکن نماز کی روح ان سے عاری رہی اور نماز کی روح سے خالی رہی اور جس طرح ایک مشین گھومتی ہے یا ایک روبوٹ چلتا ہے جو بظاہر زندگی والے آثار رکھتا ہے لیکن حقیقت میں زندگی۔خالی ہوتا ے ایسی عبادتیں بھی ہو جاتی ہیں۔ނ پس آخری بات یا یوں کہنا چاہئے کہ پہلی بات جو آخر بھی ہے اور پہلی بھی ہے وہ یہی ہے کہ اپنی آئندہ نسلوں کو عبادتوں پر قائم کرنے کے لئے دعا کی طرف متوجہ ہوں اور دعاؤں میں ابتہال پیدا کریں، دعاؤں میں درد پیدا کریں، دعاؤں میں گریہ وزاری پیدا کریں، دعاؤں میں خدا تعالیٰ آپ کی بے قراری اور بے چینی کو محسوس کرے اور وہ جان لے کہ آپ واقعہ اپنی اولادوں اور آئندہ دور تک آنے والی نسلوں کو خدا کے عبادت گزار بندے بنانا چاہتے ہیں۔اگر آپ ایسا کریں گے تو صراط مستقیم کے کنارے پر آپ کھڑے ہوں گے آئندہ سفراختیار کرنے کے لئے۔آپ کی صراط مستقیم پر چلنے کا آغاز ہو جائے گا۔پھر جوں جوں اس راہ میں قدم آگے بڑھائیں ہمیشہ دعا کو یا درکھیں اور دعا سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہیں۔دعا سے عجائب کام ہوتے ہیں حیرت انگیز پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں نصیحت کو ایک نیا شعور ملتا ہے۔وہ نصیحت کرنے والا جو دعا کا عادی نہیں اور دعا سے خالی