خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 503 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 503

خطبات طاہر جلدے 503 خطبہ جمعہ ۵ ار جولائی ۱۹۸۸ء کہ در فٹے منہ ! در فٹے منہ ! توں کی گلاں کرنا ایں تیہ (۳۰) سال دا میرا پتر اوتھے میں مڑ کے اس پاسے نہیں ویکھیا کدی۔میرا امام جدوں دا گیا اودوں دا میرا دل بے قرار اے۔وہ کہتے ہیں ہم سے آنسو برداشت کرنے مشکل ہو گئے۔کیسے کیسے لوگ ہیں جو احمدیت نے پیدا کئے ہیں۔ایسے مہمان بھی آپ کے پاس آئیں گے۔جو دنیا کی تعلیم سے بے بہرہ ہوں گے، دنیا کے عام بول چال کے جو آپ کے تقاضے تہذیب کے ان سے بھی نا آشنا ہوں گے۔دیہاتی لوگ سادہ لیکن آپ ان کو معمولی نہ سمجھیں۔بہت سے ان میں سے ایسے ہیں جو گڈریوں کے لعل ہیں جو خدا کی نظر میں محبوب ہیں کیونکہ ان کا سفر خالصہ للہ الف سے کی تک۔ایسے بھی ہیں جو یہاں آئے اور مسجد میں ڈیرا ڈالا اور یہیں سے واپس چلے گئے کوئی مڑ کر ادھر اُدھر نہیں دیکھا کہ کوئی اور بھی دنیا یہاں بستی ہے یا نہیں بستی۔اس لئے ان لوگوں سے حسن سلوک کریں، محبت اور پیار کریں، ان کے نخرے بھی برداشت کریں، ان سے اگر ان کی لاعلمی کے نتیجے میں کوئی تکلیف پہنچے تو محض اللہ اسے معاف کریں۔اللہ کرے کہ ہر لحاظ سے یہ جلسہ خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کو جذب کرنے کا موجب بنے۔آمین۔