خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 499 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 499

خطبات طاہر جلدے 499 خطبہ جمعہ ۵ ار جولائی ۱۹۸۸ء ہے کہ گزشتہ سال بہت بہتر حالت رہی ہے اور کئی خامیاں جو اس سے پچھلے سالوں میں دکھائی دیتی تھیں وہ اس دفعہ نہیں تھیں لیکن ابھی بہت گنجائش ہے۔سب سے زیادہ مجھے فکر نماز با جماعت کے قیام کی ہے انگلستان کی جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاق کا معیار بڑھ رہا ہے، اخلاص کا معیار بڑھ رہا ہے اور نیک آواز پر لبیک کہنے کی عادت پیدا ہوتی جارہی ہے اور پھیلتی چلی جارہی ہے یہ عادت۔جولوگ پہلے تعاون نہیں کرتے تھے وہ خدا کے فضل سے بہت زیادہ تعاون کرنے لگ گئے ہیں۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ اگر تربیت کا نظام ان کو اپنی زندگی کے اس بنیادی فریضہ کی طرف متوجہ کرتا رہے گا یعنی نماز پڑھنی ہے تو جلسے میں ہمیں ایسی تربیت کا موقع مل جائے گا جو سارا سال یہاں کی جماعت کے کام آئے گی۔عموماً باہر سے آنے والے نماز کی زیادہ پابندی کرتے ہیں بنسبت مقامی دوستوں کے۔اس کی اور وجوہات بھی ہوں گی لیکن ایک وجہ یہ ہے کہ کارکن سمجھتا ہے کہ میں چونکہ مصروف ہوں اور میں دینی کام کر رہا ہوں۔اس لئے نماز اس کے نزدیک کوئی دوسرے تیسرے درجہ کی اہمیت اختیار کر جاتی ہے حالانکہ نماز ہمیشہ پہلے ہی رہتی ہے نماز دوسرے درجہ کی چیز نہیں بن سکتی۔نظام دوسرے درجہ کی چیز بن سکتا ہے۔سوائے اس کے کہ بعض صورتوں میں جہاں قرآن کریم نے اصولاً ہدایت عطا فرمائی ہے کہ یہاں نظام ہی عبادت ہے اور عبادت کی ظاہری شکل کو ثانوی صورت دی جاتی ہے لیکن عبادت سے مستثنیٰ پھر بھی نہیں کیا گیا۔یہ مضمون لمبا ہے ، اس کے متعلق میں پہلے بھی روشنی ڈال چکا ہوں۔یہاں اس کو دھرانا نہیں چاہتا لیکن عبادت کا معیار بلند کرنے کی شدید ضرورت ہے۔اس لئے جو تربیت کا شعبہ ہے وہ خصوصیت سے اس بات کو پیش نظر رکھے کہ کوئی بھی وہاں کارکن ہو یا غیر کارکن بے نمازی نہ رہے اور اگر ممکن ہو کسی کے لئے تو باجماعت نماز پڑھے اگر ممکن نہیں ہے تو نظام جماعت اپنی اپنی جگہ باجماعت نماز کا زائد انتظام کروائے۔جس طرح لنگر خانے میں ربوہ میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی کیا کرتے تھے کہ جو کارکن نماز کے وقت نماز با جماعت میں شامل نہیں ہو سکتے تھے ان کے لئے الگ باجماعت نماز کا انتظام ہوتا تھا۔اس سے یہ ایسے بچوں کی بھی تربیت ہو جاتی تھی جو پہلے ایسے عادی نہیں ہوتے تھے۔تو اس جلسے کے ان بابرکت ایام سے استفادہ کرتے ہوئے یہاں کا تربیتی نظام نماز با جماعت کے قیام کے سلسلہ میں خصوصیت سے حرکت میں آنا چاہئے اور بعض اور باتیں ہیں وہ انشاء اللہ میں کسی دوسرے موقع پر عرض کرونگا۔