خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 493
خطبات طاہر جلدے 493 خطبہ جمعہ ۵ ار جولائی ۱۹۸۸ء کیا۔ساری دنیا کے قرضے میں کہاں سے پورے کروا سکتا ہوں اور اکثر میں نے دیکھا ہے اپنی غیر ذمہ داری سے لوگ اپنے پیسے پھنسا بیٹھتے ہیں۔قرضوں کے علاوہ بھی ایسی تجارتی سکیموں میں جو دراصل دھو کے پر مبنی ہوتی ہیں اپنے پیسے پھنسا دیتے ہیں۔جن میں دراصل لالچ کا عنصر ہے جو ان کو دھوکا دیتا ہے۔اب عام طور پر آپ روپیہ اپنا لگائیں تو اس میں نقصان کا بھی خطرہ ہوتا ہے، فائدے کا بھی امکان ہوتا ہے لیکن عام دستور کے مطابق معقول حد تک لیکن اگر آپ کو یہ کہے کہ آپ مجھے ایک لاکھ روپیہ دے دیں اور ایسا عمدہ کاروبار مجھے ملا ہے کہ میں آپ کو پچیس ہزار روپیہ ماہانہ ادا کرونگا تو یا آپ پاگل ہیں جو اسے پیسے دے رہے ہیں اور دھو کے میں آرہے ہیں یا آپ کو کچھ پتا ہی نہیں۔پھر اپنے پاگل پن کو جماعت کے اوپر کیوں ڈالتے ہیں۔حرص میں مبتلا ہو کے آپ دھوکا کھا گئے ہیں اس لئے پھر اس کو برداشت کریں یا عدالتوں میں گھو میں۔جماعت کا کام ایسا نہیں ہے کہ ایک لالچی شخص کو اس کے ضائع شدہ پیسے کو دلوانے میں کوشش اور مدد کرے۔روزمرہ کے معاملات میں غلطی ہو جاتی ہے دھوکا بھی ہو جاتا ہے وہ الگ بات ہے لیکن ایسے سودے جن میں واضح طور پر پیسہ دینے والا کسی حرص میں مبتلا ہو کر آنکھیں کھول کر جانتے ہوئے کہ عام دستور سے ہٹ کر ہونے والی بات ہے پھر دھوکا کھاتا ہے اس کی شکایتیں میرے پاس نہ کیا کریں سوائے اس کے کہ میں استغفار کروں آپ کے لئے اس سے زیادہ تو میں اور کوئی مدد نہیں کر سکتا۔بہر حال قرض کا معاملہ ہو یا لین دین کا اس میں جماعت کو ابھی اپنے معیار کو اور بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ابھی انگلستان میں پیچھے واقعہ گزرا ہے۔اس وجہ سے بہت سخی ہے اس بات کی۔ایک صاحب یہاں آئے اور لکھوکھا پونڈ ز لوگوں سے لے کر اور اس کو ضائع کر کے اور کچھ دیر غائب ہوئے اور پھر پکڑے بھی گئے لیکن کچھ بھی نہیں ہوا، سب ضائع کر بیٹھے۔بعض آدمیوں نے ان کے متعلق مجھ سے پوچھا کہ یہ ہے۔جنہوں نے پوچھا میں نے کہا ہرگز نہیں، ایک آنہ بھی نہیں دینا کیونکہ جو تم باتیں بتارہے ہو یہ خود قانون کے خلاف باتیں ہیں اس قسم کی تجارتیں ہوتی ہی نہیں دنیا میں اس لئے دھوکا ہے اس میں۔چنانچہ جنہوں نے نہیں دیئے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچ گئے اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کو مشورہ دیا گیا کہ نہیں دینا پھر بھی دے دیا اور بعد میں میرے پاس لائے اور کہا کہ جی وہ تو کھا گیا۔اس لئے دھو کے باز ہمیشہ لالچ کے ذریعے پھنساتے ہیں۔یہ یاد رکھیں جس