خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 492 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 492

خطبات طاہر جلدے 492 خطبہ جمعہ ۵ار جولائی ۱۹۸۸ء پاس پہنچیں اور اس کو اپنی کہانی بیان کریں اس لئے اگر کوئی اس قسم کی کہانی بیان کر کے کسی فرد جماعت سے پیسہ مانگتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ اس کے متعلق جماعت کو مطلع کرے اور اگر دینا چاہتا بھی ہے تو اس بات کو رجسٹر کروا کے وہ قرض دے۔اس لئے بھی ضروری ہے کہ بعض دفعہ لوگ ایسے اجتماعات میں دھوکا دے کر لوگوں کو لوٹنے کے لئے آتے ہیں یا آتے ہیں ویسے ہی کسی غرض سے لیکن ساتھ لوٹنے کا شغل بھی جاری رکھتے ہیں۔چنانچہ بہت سی جماعتوں میں دورہ کرتے وقت میں نے معلوم کیا ہے بیرونی جماعتوں میں کہ کئی ایسے ہیں بد فطرت لوگ جو باہر ملکوں میں نکلتے ہیں اور یہ استفادہ کرتے ہیں اپنے احمدیت کا نام بیچنے کی کوشش کرتے ہیں اور قرضے لے کر پھر غائب ہو جاتے ہیں پھر پتا ہی نہیں لگتا کہ گئے کہاں ؟ بعض ان میں سے بعض معروف خاندانوں کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم ان سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض سلسلے کے بعض کارکنوں کا ذکر کرتے ہیں بہر حال کوئی نہ کوئی بہانہ تراش لیتے ہیں۔تو جماعت کو اس قسم کے دھوکوں میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ایک نظام جماعت قائم ہے جو حادثات ہیں تو ان کی بالعموم ذمہ داری نظام جماعت کی ہے اس لئے وہ نظام جماعت سے رجوع کریں تحقیق کی جائے گی اگر کوئی جائز ضرورت ہوگی تو اس کو پورا کیا جائے گا لیکن جو ویسے نکلے ہیں یہاں جلسے میں شامل ہونے کے لئے ان کو پتا ہونا چاہئے کہ کتنا خرچ ہو گا زادراہ نہ ہو تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ حج کی بھی اجازت نہیں۔حج کے لئے بھی زاد راہ ہونا ضروری ہے۔تو جلسہ تو کوئی ایسی ضروری چیز نہیں ہے اگر آپ کے پاس پورا زادراہ نہیں ہے تو نہ تشریف لائیں لیکن یہاں آکر پھر مانگیں یہ جائز بات نہیں ہے اور بسا اوقات یہ شکایتیں بعد میں پیدا ہوتی ہیں کہ جب واپس چلے گئے اور پھر خبر ہی نہیں لی کہ ہم نے کسی کا قرض ادا کرنا ہے۔اس لئے ایسے دوست بھی اگر کوئی اس اعلان کے باوجود انگلستان کی جماعت سے یا باہر سے آنے والوں سے ایسا مطالبہ کرے تو ان کا فرض ہے کہ وہ نظام جماعت کو مطلع کریں کہ یہ صاحب ذاتی قرض مانگ رہے ہیں اور میں دینے پر آمادہ ہوں اور پھر اس کے بعد اگر وہ دیں اپنی ذمہ داری پر تو پھر نہ ملنے پر شکایت نہیں کرنی اور اگر ان کو خطرہ ہے کہ وہ نہیں دے گا تو نظام جماعت کے سپر د کریں وہ دے سکتا ہے تو دے گا نہیں تو نہیں دے گا اور پھر ان کی ذمہ داری ادا ہو جائے گی لیکن یہ میں نہیں چاہتا کہ ہر دفعہ لوگ غیر ذمہ داری سے خود اپنی رقمیں ضائع کریں اور بعد میں پھر میرے پیچھے پڑیں کہ جی فلاں آیا تھا پیسے کھا کے چلا گیا فلاں آیا تھا اس نے قرض واپس نہیں