خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 491 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 491

خطبات طاہر جلدے 491 خطبہ جمعہ ۵ار جولائی ۱۹۸۸ء آپ دوسروں کی پھینکی ہوئی چیزیں اٹھا کر ان ڈبوں میں ڈالیں گے تو یہ آپ احسان کر رہے ہوں گے۔ہر سوسائٹی میں عدل سے گرے ہوئے کچھ لوگ ہوتے ہیں اور احسان ہے جو ان خلاؤں کو پر کرتا ہے۔اس لئے آپ احسان کے نمونے دکھا ئیں تا کہ اگر بعض کمزورں سے کوتا ہیاں ہوگئی ہیں یا کچھ ایسے ہیں جن تک آواز ہی نہیں پہنچتی یا ویسے ہی کم تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے دینی تربیت کی کمی کی وجہ سے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ نصیحت ان تک نہیں پہنچی ہوئی تو ان کی کمی کو آپ پورا کر رہے ہوں گے اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کو بڑھارہا ہوگا اور آپ کو اس نیکی کی جزاء عطا فرمائے گا۔اس کے علاوہ اگر انگلستان کے کچھ دوست وہاں اپنے خیموں میں رہیں گے یا دوسرے ایسے انتظامات ہیں مثلا ٹریلرز وغیرہ لے جا کر رہتے ہیں بعض دفعہ ان کو بھی چاہئے کہ اپنے ساتھ ایسی چیزیں خود لے جائیں جو وہاں لگا دیں، نصب کر دیں اور اگر انگلستان کی جماعت یہ عادت ڈالے کہ بعض جماعتیں اپنے ساتھ ایسے مواقع پر کچھ ایسی چیزیں یا ایسے برتن لے جایا کریں جو وہیں چھوڑ آیا کریں تو رفتہ رفتہ کثرت سے وہاں ایسے ڈبے مہیا ہو جائیں گے یا کنستر مہیا ہو جائیں گے کہ جودن بدن لوگوں کے لئے سہولت مہیا کرتے رہیں گے۔جتنے بھی زیادہ ترقی یافتہ معاشرے ہیں ان میں آپ یہ بات دیکھیں گے کہ وہاں کثرت سے ایسی سہولتیں مہیا ہوتی ہیں کہ آپ گندی چیز کو یا ضائع شدہ چیز کو ان میں پھینک دیں اور آپ کو کسی اور جگہ جا کر محنت کر کے یہ کام نہ کرنا پڑے۔سہولت زیادہ ہو تو اس سے پھر صفائی کا معیار بھی بڑھ جاتا ہے۔اگر جماعتیں انگلستان کی جماعتیں یہ رواج ڈالیں یا خدام الاحمدیہ وغیرہ یا لجنہ وغیرہ وہاں اپنی مجالس کرتی ہیں اس موقع سے اسلام آباد سے استفادہ ہوتا ہے تو ہر دفعہ کچھ نہ کچھ اسلام آباد کی مستقل بہتری کے لئے سامان وہاں پیچھے چھوڑ آیا کریں تو اچھی چیز ہوگی۔انشاء اللہ تعالیٰ دن بدن اسلام آباد کی حالت بہتر ہوتی چلی جائے گی۔ایک دفعہ پہلے بھی میں نے ذکر کیا تھا کہ بعض دفعہ باہر سے آنے والے قرض مانگتے ہیں میز بانوں سے یا دوسروں سے اور یہ عادت اچھی نہیں ہے۔اگر کوئی حادثہ ہو گیا ہے اور اچانک ضرورت پیش آئی ہے تو سب سے پہلے ان کو جماعت کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور جماعت کی وساطت سے خواہ وہ قرض لیں یا جماعت ان کو مہیا کر دے۔یہ ہر فرد کا کام نہیں ہے کہ آپ اس کے