خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 489
خطبات طاہر جلدے 489 خطبہ جمعہ ۵ار جولائی ۱۹۸۸ء ہے افسر متعلقہ نے آنکھیں بند کر لی۔ہوں اس لئے میں یہ کہتا ہوں کہ اسی وقت وہ مجھے براہ راست اطلاع دیا کریں اور پرائیویٹ سیکرٹری کو فوری لکھ کر کہ یہ واقعہ ضرور پہنچاتا ہے آپ دے دیا کریں اور وہ مجھے ضرور پہنچ جائے گا لیکن واپس جا کر آپ کو کوئی حق نہیں ہے کہ یہاں کے نظام سے بھی فائدے اٹھائیں ، مہمان نوازیوں سے بھی فائدے اٹھائیں اور پھر وہاں جا کر جماعت کی بدنامی کا موجب بنیں۔اس سے بہتر اخلاق تو ایک ہندی کے دو ہے میں ظاہر کئے گئے ہیں۔مجھے دو ہے کے پورے الفاظ یاد نہیں اس لئے میں اس کا ترجمہ بتا تا ہوں کہ ایک درخت کو آگ لگی ہوئی تھی تو اس کی ایک شاخ پر ایک پرندہ بیٹھا تھا۔کہانی میں کسی راہ گیرنے گزرتے ہوئے اس پرندے سے پوچھا کہ درخت کو آگ لگ رہی ہے تمہیں خدا نے پر عطا کئے ہیں تم اڑ سکتے ہو کیوں اڑ نہیں جاتے۔اس نے جواب دیا کہ اس درخت کے سائے میں میں رہا، یہاں میں نے گھونسلا بنایا۔اس کے پتے گندے کئے اس کے پھل کھائے۔اب میرا دھرم یہی ہے کہ اس کے ساتھ جل جاؤں۔تو میزبان کے یہ حقوق تو بہر حال ہوتے ہیں۔وہ خدمت کرتا ہے اگر اس میں کوتاہی بھی ہوگئی ہے تو اتنا سا تو اس کا پاس کریں کہ واپس جا کر بے وجہ اس کی بدنامی ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھیوں کی بھی بے وجہ بدنامی کا موجب بن جائیں۔اس کی اسلام آپ کو اجازت نہیں دیتا اور پھر فوری شکایت کرنے کا تو فائدہ بھی ہے آگے اس کا ازالہ ہوسکتا ہے۔لیکن واپس جا کے شکائیتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ آپ قرآن کریم کے اس حکم کی نافرمانی کر رہے ہوں گے کہ وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا (الحجرات :۱۳) کہ تم میں سے بعض کسی بعض کی چغلی نہ کریں اور مثال یہ دی کہ یہ تو ایسی بات کہ کسی مردہ بھائی کا گوشت کھانے والی بات ہے۔تو ایک موقع پر شکایت یہ تھی کہ یہاں کھانا اچھا نہیں ملا گوشت اچھا نہیں ملا اور وہاں جا کر ایک جماعت میں یہ بات پھیلائی گئی۔مجھے اس وقت اسی مثال کا خیال آیا کہ یہاں اچھا گوشت نہیں ملا اس نے جا کر مردہ بھائی کا گوشت کھانا شروع کر دیا۔یہ تو کوئی عقل کی بات نہیں ہے اس لئے آنے والوں کو بھی اپنی ذمہ داری کو ادا کرنا چاہئے اور جو شکایات ہیں وہ بر وقت متعلقہ افسران تک پہنچایا کریں۔وہاں جلسہ گاہ میں چونکہ عام مہمانوں کا اکٹھا انتظام ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ اس ضمن میں پوری کوشش کی جائے گی کہ ہر طرح سہولت مہیا ہو لیکن جانتے ہیں ساری جماعت کے افراد جو جلسوں میں