خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 488 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 488

خطبات طاہر جلدے 488 خطبہ جمعہ ۵ ار جولائی ۱۹۸۸ء بڑا احسان کیا ہے، حسن سلوک کیا ہے۔شوق سے جو دو چار ساتھی تھے سب بیٹھ گئے۔آدھے رستے میں پٹرول پمپ پہ جب کارکھڑی کی اور کہا کہ جی پٹرول ڈلوانا ہے آپ پیسے دے دیں اور اس طرح ان کو مجبور کر دیا کہ پیسے وہ دیں اور وہ بتارہے تھے کہ جتنا ہمیں جماعت کی طرف سے کرایہ دے کر جو انتظام مہیا ہوا تھا اس سے زیادہ ہمیں اس کے پیسے دینے پڑے۔بڑی بد اخلاقی ہے اور اس کا بہت ہی گندا اثر اس پر پڑا۔اس ضمن میں میں دو نصیحتیں کرنی چاہتا ہوں ایک آنے والے کو اور ایک یہاں رہنے والوں کو۔جماعت انگلستان کے متعلق میں خود گواہ ہوں کہ خدا کے فضل سے مہمان نوازی کی نہایت اعلیٰ روایات پر قائم ہے اور بحیثیت جماعت اس پر کوئی حرف نہیں رکھا جاسکتا۔انفرادی طور پر ایک آدھ مچھلی اگر گندی نکلتی ہے تو اس کو میں متنبہ کرتا ہوں کہ اپنی اس چھوٹی سی ذلیل سی حرکت سے ساری جماعت کو بدنام نہ کرے اور آنے والوں سے میں کہتا ہوں کہ شکایت کا وقت تو وہ ہوا کرتا ہے جب شکایت پیدا ہو۔انہوں نے جماعت انگلستان کے خلاف ایک شکایت کی میں نے تحقیق کرائی تو پتا چلا کہ کوئی اتفاقی حادثہ ہوا ہے ورنہ خدا کے فضل سے جماعت انگلستان بالعموم ہرگز ملزم نہیں ہے لیکن ان لکھنے والے کے خلاف مجھے دوشکا یتیں پیدا ہوئیں۔اول یہ کہ یہاں موقع پر نہیں بتایا تا کہ اس وقت اعلان کیا جا تا اور نصیحت کر دی جاتی ہو سکتا ہے کہ کچھ اور لوگ بھی بیچارے اسی طرح اس کے ستم رسیدہ بن گئے ہوں اور دوسری شکایت یہ کہ وہاں جا کر باتیں کی ہیں لوگوں میں اور نہایت گندا اثر نا جائز گندا اثر جماعت انگلستان کا وہاں پیدا کیا ہے۔اب ہر ایک کے پاس تو جا کر یہ تو نہیں بتایا جاسکتا کہ غلط کہہ رہے ہیں یہ عام رواج نہیں تھا کوئی اتفاقاً آدمی ایسا بن گیا ہے لیکن جو لوگوں کے دلوں میں ایک میل پیدا ہوئی ہوگی وہ اس کے ذمہ دار ہیں۔تو نا جائز حرکت کی جتنی شکایت یہاں کی ہے اس سے بڑے مجرم وہ خود ہیں کیونکہ ایک شخص نے کرایہ لے لیا کچھ بد اخلاقی سہی لیکن کسی جماعت کو بدنام کرنا اور اس کی شہرت کو داغ لگانا یہ چغلی بھی ہے اور انفرادی چغلی نہیں بلکہ جماعتی طور پر ایک جرم بن جاتا ہے۔اس لئے آنے والے مہمان خواہ ان کو افراد سے شکایت ہو خواہ ان کو نظام جماعت سے شکایت ہوان کو میں دعوت دیتا ہوں کہ یہاں موقع پر فوری طور پر افسر متعلقہ کو اطلاع کیا کریں۔اگر افسر متعلقہ ویسارد عمل نہ دکھائے جیسی وہ توقع رکھتے ہیں تو ہو سکتا ہے اس کی شکایت ہی غلط ہو اور ہو سکتا