خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 484
خطبات طاہر جلدے 484 خطبہ جمعہ ۱۵ار جولائی ۱۹۸۸ء چاہیں ان کے پاس ٹھہریں جتنی دیر چاہیں ان کے پاس ٹھہریں لیکن یہ خیال پھر بھی کر لیں کہ وہاں ہمارے ملک یعنی پاکستان میں مہمانوں کا رکھنا نسبتاً زیادہ آسان ہے اور ان ممالک میں مہمانوں کا رکھنا مشکلات پیدا کرتا ہے۔ گھر بھی چھوٹے ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ میاں بھی کام کرتا ہے، بیوی بھی کام کرتی ہے، بچوں کو بھی اپنے معیار کو قائم رکھنے کے لئے ماں باپ کے ہاتھ بٹانے پڑتے ہیں۔ اس لئے ان کے حقوق کا بہر حال ان کو بھی خیال رکھنا چاہئے ۔ خواہ رشتہ دار یا عزیز ہی کیوں نہ ہوں۔ جہاں تک دوسرے مہمانوں کا تعلق ہے۔ جن کا رشتہ احمدیت کا رشتہ تو ہے لیکن دوسرا رشتہ نہیں ان کو یا د رکھنا چاہئے کہ مہمان نوازی کے فرائض تین دن تک تو مستند معلوم ہیں اور تین دن کے بعد اگر کوئی میزبان زیادہ رکھنا چاہے تو شوق سے ایسی درخواست کر سکتا ہے لیکن مہمان کا جہاں تک تعلق ہے اس کو خوشی کے ساتھ ، شرح صدر کے ساتھ اس بات کو قبول کرنا چاہئے کہ اگر وہ جلسے کے بعد زیادہ دن ٹھہر نا چاہے تو یا تو جماعتی نظام کی طرف رجوع کرے یا پھر اپنا الگ انتظام کرے۔ جلسے کی مہمانی تو جماعت کا فرض ہے بہر حال۔ چند دن ، جلسے کے جو تین دن ہیں اس کو تو ہم مہمانی کے دنوں میں شمار ہی نہیں کرتے اس لئے دو چار دن پہلے اور دو چار دن بعد تک یعنی تین دن سے زیادہ بلکہ تین گنا سے بھی زیادہ بڑھ کر جماعت احمد یہ ذمہ دار ہے کہ آنے والے مہمانوں کی سہولت کا ہر طرح کا خیال رکھے لیکن جو ذاتی طور پر کسی کے گھر ٹھہریں گے میں اس وقت ان سے مخاطب ہوں کہ ان کیلئے زیادہ تکلیف کا موجب بننا مناسب نہیں ہے ۔ دوسرے یہاں چونکہ ملازموں کا رواج نہیں ہے اور اقتصادی لحاظ سے بھی لوگوں میں اتنی توفیق نہیں کہ گھر کے روزمرہ کے کاموں کے لئے وقتی مدد بھی کرائے پر حاصل کر سکیں ۔ اس لئے مہمانوں کو جہاں تک ممکن ہو خوشی کے ساتھ میز بانوں کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ گند نہ ہو اور بے وجہ راتوں کی مجالس لگا کر زیادہ شور نہ ڈالیں کیونکہ یہاں رواج یہ ہے کہ اکثر گھر تو دونوں طرف سے ساتھ ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔ دوسرے جو آپ کو بظاہر دیواریں نظر آرہی ہیں یہ ایک عارضی سی چیزیں ہیں بلکہ بعض تو ایسی نازک دیواریں ہوتی ہیں کہ اگر کوئی زور سے مکا مارے تو وہ دیوار کے پار نکل جاتا ہے۔ تو اس لئے خیال رکھیں کہ آپ کی باتوں کی آواز ہمسایوں تک ضرور پہنچتی ہیں اور بعض ہمسائے حوصلے والے ہوتے ہیں اور بعض ذرا تھر دلے بھی ہوتے ہیں اور ویسے بھی بہر حال حق تو ہر ایک کا ہے کہ اس کے