خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 480
خطبات طاہر جلدے 480 خطبہ جمعہ ۸/ جولائی ۱۹۸۸ء کرتا ہے۔عدالتیں جھوٹ سے بھر گئی ہیں فیصلہ دینے والے مٹھیوں پر نظر رکھتے ہیں کہ مٹھیوں میں کیا بند ہے۔یہ واقعات ہیں یا نہیں ملاں کو خدا نے محافظ بنایا تھا اگر وہ واقعہ دین کا نمائندہ ہے۔کس ملاں کے دل کو اس بات سے آگ لگی ہے، کس ملاں کی رات کی نیندیں حرام ہوئی ہیں؟ قطعاً کوئی پرواہ نہیں ہاں احمدی کلمہ نہ پڑھ جائے کہیں۔اس بات کیلئے جیتے ، اس بات کے لئے مرتے ہیں کہ کسی احمدی کے منہ سے لا الہ الا الله محمد رسول اللہ نہ نکل جائے۔اسلام کے اعمال کی حفاظت تو در کنار اسلام کے عقائد کی حفاظت کی بھی ان کو کچھ پرواہ نہیں۔ایک دور تھا ہندوستان پر جبکہ یہاں کے سفید فام عیسائی وہاں چو ہڑوں، چماروں میں سے سیاہ رنگ کے عیسائی پیدا کر رہے تھے اور پھر وہاں سے جو رو چلی تو اونچی ہوتی ہوتی قوم کے بڑے بڑے علماء اور سید تک بھی جو آنحضرت یہ کی طرف جسمانی طور پر منسوب ہوتے تھے وہ بھی عیسائی ہونے لگ گئے لیکن بہر حال یہ درست ہے کہ بھاری اکثریت چوہڑوں، چماروں کی رہی اور وہ سفید آقا بھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی شان میں شدید گستاخیاں کرتے تھے اور بد زبانی کرتے تھے اور یہ کالے عیسائی بھی اپنے آقاؤں سے بڑھ چڑھ کر بکواس کیا کرتے تھے اور ان علماء کو کوئی ہوش نہیں تھی۔یہ علماء لکھتے ہیں کہ اگر میدان میں کوئی نکلا تو قادیان سے وہ دردمند دل نکلا ، وہ عاشق دل نکلا جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی محبت میں کلیہ فدا ہونے کیلئے تیار اور مستعد رہا کرتا تھا۔چاروں طرف سے عیسائی دنیا سے اس نے ٹکر لی عظیم الشان معر کے کئے اور ان معرکوں میں معرکہ حق و باطل میں مباہلے بھی ہوئے اور ان مباہلوں کے وقت جو حضرت محمد مصطفی امی اہلیہ کی عزت و تکریم کی خاطر کئے گئے تھے مسلمان علماء عیسائیوں کے ساتھ ہو گئے اور محمد رسول اللہ ہے کے اس عاشق کو چھوڑ دیا۔وہ آنتقم کا مباہلہ آج بھی معروف و معلوم ہے۔اس مباہلہ کی وجہ یہ تھی کہ وہ آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کیا کرتا تھا اور اس بنا پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو چیلنج دیا تھا۔علماء عیسائیوں کے ہم نوا ہو کے صرف حضرت مرزا صاحب کو جھوٹا کرنے کی خاطر اس بات کو بھول گئے کہ مباہلہ تو رسول اکرم ﷺ کی سچائی اور پاکیزگی پر تھا اور اس بات کے اظہار کے طور پر تھا کہ خدا کو اس پاک وجود کی بڑی غیرت ہے۔پس آج بھی وہی حالت ہے۔ایک طرف پاکستان میں احمدی پر کلمہ پڑھنے کے الزام میں صلى الله