خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 479 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 479

خطبات طاہر جلدے 479 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۸ء اصلاحی ذرائع کیلئے بدن کی قوتوں کو حرکت میں لایا جاتا ہے۔تو نہ کسی کو وہاں تکلیف پہنچتی ہے نہ قوتوں کو حرکت میں لایا جاتا ہے، کلیۂ بے حسی ہے اسلام کی روح سے اور کبھی بھی اس کی تکلیف محسوس نہیں کی جاتی۔جس اسمبلی نے مثلاً جماعت احمدیہ کو کافر اور غیر مسلم قرار دیا تھا وہی علماء جو اس میں بیٹھے ہوئے تھے اور بڑے فخر کے ساتھ ساری اسمبلی کے ممبروں کو اپنے ساتھ شامل کیا ہوا تھا وہ جانتے تھے اور آج بھی جانتے ہیں جو لوگ زندہ ہیں ان میں سے وہ جانتے ہیں کہ ان میں دہر یہ موجود تھے، اسلام کا مذاق اڑانے والے موجود تھے۔ان کے متعلق خود انہوں نے یہ فتوے دیے تھے کہ پکے بے دین اور کافر ہیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی گستاخی کرنے والے موجود ہیں۔ان میں ایسے تھے جن کے متعلق علماء کہتے تھے کہ قرآن کریم کی انہوں نے ہتک کی ہے اور گستاخی کی ہے اور ایسے تھے جنہوں نے واقعہ کی تھی۔ان کو چھاتی سے لگا کر ، ان کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر جماعت احمدیہ کو اسلام سے نکال کر باہر پھینکا گیا۔کوئی حس اگر اسلام کے لئے ہوتی تو اسلام کے دشمنوں کے ساتھ کس طرح ملتے یہ۔جانتے ہوئے کہ ان میں بھاری اکثریت وہ تھی جن کے متعلق آج کی صالحیت کی دعویدار حکومت کا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں قمار باز تھے ، جوئے کی کمائی پر پلنے والے تھے ، رشوت ستانی کرنے والے تھے، غریبوں کا خون چوسنے والے تھے، نمازوں سے بے بہرہ تھے، اسلام سے غافل تھے ہر قسم کی بدی کے متعلق ان کے متعلق وائٹ پیپر شائع کر دیا گیا اسی حکومت کی طرف سے جو آج کل قائم ہے۔یہ وہ اسمبلی ہے جس کے فیصلے کو فخر سے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ اس اسمبلی نے جماعت احمدیہ کو باہر نکالا ہے۔پرانے شکووں کی خاطر میں اس بات کو نہیں دہرار ہا میں سمجھانا چاہتا ہوں قوم کو غور کیوں نہیں کرتے ؟ کیوں آنکھیں نہیں کھولتے ؟ کوئی تم میں رجل رشید باقی نہیں رہا جو ان سادہ باتوں کو سمجھ سکے۔ملاں کو کوئی حس نہیں ہے اسلام کی۔اسلام کی حس ہوتی تو نیندیں اڑ جاتیں اس ملک میں جہاں قتل وغارت ہورہا ہے، جہاں چوری اور ڈاکہ زنی روزمرہ کی عادت بن چکی ہے، جہاں عزتوں کی کوئی حفاظت نہیں رہی، جہاں یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنے والے ہاتھ کاٹے جاچکے ہیں، جہاں بیوگان کا کوئی سہارا باقی نہیں رہا۔صرف باتیں ہیں اور قصے ہیں اور جس کا بس چلتا ہے جس جائیداد پر ہاتھ ڈال سکتا ہے اس پر ڈالتا ہے اور حرام کو شیر مادر کی طرح جائز سمجھ کے استعمال