خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 475
خطبات طاہر جلدے 475 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۸ء اس لئے میں نے بظاہر“ کا لفظ استعمال کیا کہ بندوں کا قہر ہو یا بظاہر خدا کا قہر ہوغریب عوام پر ہی ٹوٹتا ہے تو کیسے ان کو اس مصیبت سے الگ کیا جا سکتا ہے اور کیا یہ غرباء پر ظلم اور زیادتی نہیں؟ اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے جب قرآن کریم کی بعض آیات پر نظر ڈالی تو اس مضمون کو قرآن کریم نے خوب کھول کر بار بار بیان فرمایا ہے اور کوئی شبہ کی بات باقی نہیں رہنے دی۔قیامت کے دن ان غربا ء کا یہ عذر قبول نہیں کیا گیا، ان عوام الناس کا یہ عذر قبول نہیں کیا گیا کہ ہم تو لاعلم لوگ تھے، نادان تھے، پیچھے چلنے والے تھے، ہمارے بڑوں نے یہ حرکتیں کیں ، ہمارے بزرگوں نے ہمیں اس طرف ڈالا ہمارا کیا قصور ہے؟ اور بعض آیات سے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے اپنا قصور تو تسلیم کیا لیکن یہ کہا کہ ان کو دو ہر اعذاب دو ہمیں اس کا بھی لطف آئے کیونکہ یہ بد بخت جو ہمیں گمراہ کرنے والے ہیں یہ اس بات کے سزاوار ہیں کہ ان کو ہم سے دو گنا عذاب دیا جائے۔لِكُلِّ ضِعْفُ (الاعراف: ۳۹) قرآن کریم کا یہ جواب ہے کہ جو عذاب میں مبتلا ہوتا ہے اس کو پتا چلتا ہے کہ عذاب کیا ہے ہر شخص جو عذاب میں ڈالا جاتا ہے وہ دگنا ہی سمجھتا ہے اپنے عذاب کو۔یہ نہیں فرمایا کہ ان کو دگنا نہیں دیا جائے گا۔فرمایا ہر س جو عذاب میں مبتلا ہے عذاب میں مبتلا ہونا ہی ایک ایسی مصیبت کی بات ہے کہ وقت نہیں کتنا پھر ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ مجھے دو گنا عذاب دیا جارہا ہے تو کیا وجہ ہے؟ میں نے پھر سوچا کہ آخر یہ غرباء کیوں بیچارے پیسے جاتے ہیں تو مجھے اس کی حکمت یہ سمجھ آئی کہ قوم ایک بدن کی طرح ہوتی ہے اور اگر بدن میں دماغ پھر جائے اور ٹیڑھی سوچیں سوچنے لگے یادل کج رو ہو جائیں اور شرارت پر آمادہ ہوں جب تک ہاتھ اور پاؤں ان کا ساتھ نہ دیں، دماغ کی سوچ شرارت پیدا نہیں کر سکتی اور دل کی کبھی کوئی شرارت پیدا نہیں کر سکتی بالکل بے بس ہو جاتے ہیں۔پس جہاں بھی کوئی شخص فالج زدہ ہو وہاں اس کی سوچ خواہ نیک ہو یا بد ہو اس کا اشارہ بھی کوئی اس کے اعضاء میں ظاہر نہیں ہوتا۔تو در حقیقت شرارت کی سوچ کافی نہیں ہے۔شرارت کی سوچ کیلئے ایک بدن چاہئے اور بدھیبی ہے کہ غرباء یہ بدن مہیا کرتے ہیں۔عوام الناس ہاتھ پاؤں بن جاتے ہیں ان شریروں کے۔چنانچہ اب جب اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے اس پہلو سے جب فسادات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ عقدہ کھلتا ہے کہ غریب کا گلا غریب کاٹ رہا ہوتا ہے۔امیروں کے محلے سے امراء نہیں آتے ان پر گولیاں چلانے کیلئے۔وہ غریب ہیں انہیں گلیوں کے جو اپنے بھائیوں کا گلا کاٹ رہے ہوتے