خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 474
خطبات طاہر جلدے 474 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۸ء اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بچے تھے کہ جھوٹے تھے ان کا کیا حال تھا اور آنکھیں بند کر کے اپنے بڑوں کے پیچھے لگ کر اپنے لئے خدا کی ناراضگی کو دعوت دے رہے ہیں۔بعض لوگوں نے مجھ سے اس بات کا اظہار کیا کہ جتنے بڑے ہیں۔جو سارے اس میں ملوث تھے جن میں حکومت پاکستان کی نیشنل اسمبلی بلکہ وہ پہلی نیشنل اسمبلی جو بھٹو صاحب کے زمانے میں تھی جس نے اس سلسلہ کا آغاز کیا ہے ان سب کو مباہلے میں شامل کرنا چاہئے کیونکہ یہ وہ ملک اور قوم کے نمائندے ہیں جنہوں نے تکذیب میں بڑی جرات کی ہے۔اس وقت بھی جب ایسا ذکر ہوایا مجھے خود اس کا خیال آیا تو میں عمداً اس بات سے باز رہا۔چنانچہ نہ خطبات میں نہ بعد میں جو مباہلہ کا چیلنج شائع کیا گیا ہے اس میں ان لوگوں کو مخاطب کیا ہے۔وجہ یہ ہے کہ واقعہ قوم کے نمائندے تھے۔کم سے کم ۱۹۷۴ء کی اسمبلی کے نمائندے تو بہر حال قوم کے نمائندے تھے۔بعد کی اسمبلی کے نمائندے ہوں یا نہ ہوں اس سے بحث نہیں لیکن وہ اسمبلی جس نے تکذیب کی بنیاد ڈالی ہے، جس نے ملک کے قانون میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کو داخل کیا ہے وہ بہر حال نمائندہ تھے اور اگر نمائندوں کو شامل کر لیا جائے اور وہ اپنی نادانی اور جہالت میں اسے قبول کر لیں تو ساری قوم خدا کے عذاب کی چکی میں پیسی جاتی ہے۔یہ وہ فکر تھا جس کی وجہ سے میں نے عمداً ان کو مخاطب نہیں کیا اور محض ان علماء تک بات رکھی جو اپنے زعم میں قوم کے نمائندے ہیں لیکن ان کے پیچھے چلنے والا ٹولہ چھوٹا ہے، تھوڑا ہے اور جب بھی ملک میں انتخابات ہوتے ہیں ان کی یہ نمائندگی نگی ہو جاتی ہے۔چنانچہ سینکڑوں نمائندوں میں سے بمشکل گنتی کے چند مولوی ہیں جن کو چنا جاتا ہے۔تو اس پہلو سے اگر وہ مباہلہ کو قبول کر لیں تو خدا کے عذاب کا دائرہ محدود ہے گا۔میرے پیش نظر یہ حکمت تھی لیکن بہر حال جب میں نے مزید اس مسئلے پر غور کیا تو بعض اور افسوسناک پہلو ایسے سامنے آئے جس کی وجہ سے عوام الناس کیلئے میری فکر مندی بڑھتی چلی گئی۔مجھے یہ خیال آیا کہ جب بھی مصائب کی چکی چلتی ہے تو بیچارے غریب عوام ہی پیسے جاتے ہیں۔جب ملک میں فساد ہوتے ہیں تو عوام ہی کے گلے کٹتے ہیں انہیں کے گھر بموں کے دھماکوں سے اڑتے ہیں، انہی پر چھرے چلائے جاتے ہیں، محلوں کے محلے آگ کی نظر کر دیئے جاتے ہیں جہاں غریب بستے ہیں۔پھر یہ کیا وجہ ہے کہ غریب پر ہی قہر ٹوٹتا ہے، خواہ بندوں کا قہر ہو یا بظاہر خدا کا قہر ہو۔خدا کے قہر کی پہچان تو خدا والوں کو ہی ہو سکتی ہے لیکن دنیا میں عرف عام میں بعض بلا ؤں کو خدا کا قہر کہا جاتا ہے