خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 468
خطبات طاہر جلدے 468 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء پہنچیں ، قرآن لے کر جائیں، نصیحت کریں ہدایت دیں کہ دیکھو خدا کے بندو! کس دین سے تعلق رکھتے ہو خدا کا خوف کرو۔یہ تو ماننے والی بات تھی ،عقل میں آنے والی بات تھی۔ان کو تو کام ہی اور سپر د کر دیا گیا، ان کو تو اسلام کے نام پر دل آزاری نہیں ہو رہی تھی ان کی ، اسلام بیزاری ہو رہی تھی دراصل امر واقعہ تو یہی ہے کیونکہ ہر وہ چیز جس سے ان کی دل آزاری تھی وہ حقیقی اسلام تھا۔اذان حقیقی اسلام ہے، نماز حقیقی اسلام ہے، مسجدوں کا قیام حقیقی اسلام ہے، مسجدوں کی تعمیر حقیقی اسلام ہے، کلمہ حقیقی اسلام ہے، غریب کی ہمدردی اور خدمت خلق حقیقی اسلام ہے۔یہ ساری وہ چیزیں ہیں جن سے ان کی دل آزاری ہوتی ہے۔تو دوسرے لفظوں میں اسے دل آزاری نہیں کہنا چاہئے۔اسے اسلام بیزاری کہنا چاہئے اور یہ کوئی محاورہ نہیں حقیقہ یہی ہے اس کے سوا اس کا کوئی معنی ہی نہیں بنتا۔تو میں صدر ضیاء الحق صاحب کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ مباہلہ قبول کرنے سے پہلے وہ ان باتوں پر غور کریں اور تقویٰ اختیار کریں۔مجھے اس لئے یہ خیال آیا ہے ان کو اس نصیحت کا کہ ان کی جو تقریر سنی ہے غالباً پچیس تاریخ کی تھی ، ۲۵ / جون کی اس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کو خدا خوفی کی طرف خیال ضرور گیا ہے چنانچہ اخباروں میں جو خبر میں شائع ہوئی ہیں انہی خبروں کو پڑھ کر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر اس وقت دل کی نرمی کی حالت ہے تو کیوں نہ اس وقت نصیحت کر دی جائے۔جب لوہا نرم ہو تو پھر اس کو (Mould) مولڈ کیا جا سکتا ہے اس کو مختلف شکلیں دی جا سکتی ہیں۔سخت دل انسان بھی بعض حالتوں میں بعض خوفوں سے متاثر ہو کر نرم پڑ جایا کرتے ہیں۔اس لئے میں ان کو نصیحت کرنی چاہتا ہوں۔وہاں دو خوفوں کا اظہار کیا ہے انہوں نے۔ایک عوام الناس کا خوف اور ایک خدا کا خوف۔جہاں تک عوام الناس کا خوف ہے میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر خدا کا خوف آپ کے دل میں پیدا ہو جائے تو عوام کے کسی خوف کی ضرورت نہیں، وہ شخص جو خدا کا خوف دل میں رکھتے ہیں وہ لوگ جو خدا کا خوف دل میں رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو عوام کے خوف سے نجات بخشا کرتا ہے۔اس کے برعکس قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ جو خدا کا خوف نہیں رکھتے اور انسانوں سے ڈرتے ہیں، خدا کی خشیت اختیار نہیں کرتے بلکہ انسانوں کی خشیت اختیار کرتے ہیں ان کو دنیا کی کوئی طاقت بچا نہیں سکتی۔اس لئے اگر آپ گھبرائے ہوئے ہیں حالات سے ،اگر آپ کو مستقبل گھناؤنا اور تاریک دکھائی دے رہا ہے۔اگر خطرات دکھائی دے رہے ہیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے تو