خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 41
خطبات طاہر جلدے 41 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۸۸ء بھی اس تحریک میں حصہ لیتے۔وقتا فوقتا انہوں نے خود اپنے آپ کو یاد کرایا خوداپنے ضمیر کو جنجھوڑا کوئی رستہ نکا لوکسی طرح اس تحریک میں شامل ہونے کی کوشش کرو لیکن ایک لمبے عرصہ تک ان کو توفیق نہ مل سکی۔پھر جب خدا نے توفیق دی اسی وقت انہوں نے خود بغیر کسی یاد دہانی کے اس تحریک میں حصہ لیا اور پھر مجھے خط لکھا کہ اس طرح ایک تحریک تھی اس میں ہم شمولیت سے رہ گئے تھے خدا تعالیٰ نے ہمارے جذبے کو زندہ رکھا اور اب جبکہ توفیق ملی ہے تو ہم خدا کی راہ میں یہ پیش کر رہے ہیں۔یہ جماعت ہے اور یہ خدا کا اس جماعت پر احسان ہے جو سب سے زیادہ شکریہ واجب کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان اس دنیا میں، اس زمانہ میں، اس ساری کائنات پر جماعت کی قربانی کا جذبہ ہے جو خدا تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے اور اسی سے اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں ، اسی سے عظیم کردار پیدا ہوتے ہیں اور آئندہ عظیم نسلوں کی بنیاد ڈالی جاتی ہے۔قربانی ہی ہے جو روحانی انقلاب برپا کیا کرتی ہے اور بعض اوقات قربانی کرنے والے خود فوری طور پر اپنی بعض کمزوریوں سے دستکش نہیں ہو سکتے اپنی بعض کمزوریوں پر عبور حاصل نہیں کر سکتے لیکن قربانی کے نتیجہ میں ان کے اندر ایک کشمکش جاری ہو جاتی ہے اور نیکی کی توفیق پانے کے نتیجہ میں نئی نیکیوں کی طرف ان کی توجہ مبذول ہو جاتی ہے اور باہر سے دیکھنے والا بعض دفعہ یہ سمجھتا ہے کہ ایک شخص بظاہر مالی قربانی کر گیا ہے لیکن بدی فلاں بھی ہے اس میں، فلاں بدی بھی ہے، فلاں کمزوری بھی ہے اور فلاں کمزوری بھی ہے اس مالی قربانی کا کیا فائدہ؟ جب دیگر امور میں وہ نقصوں سے پاک نہیں ہے۔اس باہر کی نظر سے دیکھنے والے کو کیا پتا کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں مقبول قربانی کبھی رائیگاں نہیں جایا کرتی۔وہ کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے ایک جدوجہد شروع کر دیتی ہے اور خاموش دل کے اندر ایک آگ سی لگ جاتی ہے کہ میں باقی امور میں بھی اپنے معیار کو بلند کروں اور رفتہ رفتہ دعاؤں کے نتیجہ میں پھر بھی آج کبھی کل کبھی پرسوں کبھی اس سال کبھی آئندہ سال خدا کے قربانی کرنے والے بندے برے لوگوں میں سے نکل کر یعنی نسبتا برے لوگوں میں سے نکل کر نسبتاً اچھے لوگوں کی صف میں شامل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔پس قربانی کی توفیق عطا ہونا ایک بہت ہی عظیم الشان نعمت ہے، اتنا بڑا انعام ہے کہ اس کا ذکر بھی اگر تفصیل سے کیا جائے تو گھنٹوں میں بھی یہ مضمون مکمل نہیں ہو سکتا۔غیر معمولی اس کی برکتیں ہیں، غیر معمولی اثرات ہیں جو ہر سمت میں جاری ہوتے ہیں اور قوموں کی تقدیر بدلنے کا راز اس بات میں ہے کہ خدا