خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 40
خطبات طاہر جلدے 40 40 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۸۸ء کی طاقت سے بڑھ کر اس پر بوجھ ڈال رہا ہوں۔بوجھ کا لفظ بوجھل ہے اس موقع پر کیونکہ حقیقت میں خدا کی خاطر کسی چیز کی توفیق عطا ہونا کسی کام کرنے کی توفیق عطا ہونا یا کسی کام کرنے کی تحریک کرنا لفظ بوجھ کے نیچے نہیں آتا سوائے اس کے کہ تاریخ میں بعض قوموں نے بد قسمتی سے ایسی چیزوں کو بوجھ سمجھا تو پھر خدا نے اس کو بوجھ بننے دیا۔تو میں ان معنوں میں بوجھ کا لفظ استعمال نہیں کر رہا۔میرے ذہن میں جو مضمون ہے اس کے لئے کوئی اور بہتر لفظ اردو میں ہے نہیں اس لئے مجبوراً میں لفظ بوجھ استعمال کرتا ہوں بار بار مراد یہ ہے کہ ذمہ داری ڈال دینا جبکہ بظاہر انسان میں اس ذمہ داری کو قبول کرنے کی طاقت نہ ہو۔تو جب میں نے ان سب تحریکات پر نظر دوڑائی تو میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جتنا جماعت سے مانگا گیا اس سے بڑھ کر جماعت نے عطا کیا یا یوں کہنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی جماعت کو کہ اس سے بڑھ کر دے اور ساری ضرورتیں ان سارے عناوین کے تحت پوری ہو گئیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ابھی بھی ایک مسلسل رو کی طرح یہ قربانیاں جاری ہیں اور اکا دکانٹے شامل ہونے والے ایسی تحریکات میں بھی ہوتے رہتے ہیں جو اپنی طرف سے پوری ہو کر اپنے دروازے بند کر چکی ہیں۔مثلاً جدید پریس کی تحریک تھی ، مثلاً یورپ میں دو نئے مراکز کی تحریک تھی۔جدید پریس کی تحریک میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ توقع سے بہت بڑھ کر جماعت کو اللہ تعالیٰ نے مالی قربانی کی توفیق عطا فرمائی اور زائد اخراجات جو ہونے تھے اور اس وقت ہمارے ذہن میں نہیں تھے وہ پہلے ہی اپنے فضل سے پورے کر دیے۔اس وقت جو میرا تخمینہ تھا وہ یہ تھا کہ ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ میں ہم آسانی کے ساتھ ایک جدید پریس بنالیں گے اور شروع کے چند مہینوں کے اخراجات بھی اسی سے مہیا ہو جائیں گے۔جب وہ پریس بنانا شروع کیا تو پتا چلا کہ اس کے تو بہت سے ایسے لوازمات ہیں جو ڈیڑھ لاکھ سے بہت زیادہ رقم کے متقاضی تھے اور دو لاکھ سے اوپر رقم اڑھائی لاکھ کے لگ بھگ درکار تھی لیکن جب تحریک کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ڈیڑھ کی بجائے اڑھائی لاکھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔یہ تحریک بظاہر بند ہو چکی ہے لیکن ایسے خط ملتے رہتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ زندہ دلوں میں کوئی تحریک بھی مرا نہیں کرتی اور بند نہیں ہوا کرتی۔ایسے لوگ ہیں جن کو اس وقت توفیق نہیں تھی جن کے دل میں شدید کرب پیدا ہوا کہ کاش ہمیں تو فیق ہوتی تو ہم